افسران، ٹیکس دہندگان کے براہ راست رابطے میں کمی کےلیے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ

 آئندہ مالی سال 2026-27کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل2026 کے ذریعے ٹیکس قوانین میں ترامیم تجویز کردی گئیں


ویب ڈیسک June 14, 2026

وفاقی حکومت نے ٹیکس افسران اور ٹیکس دہندگان کے براہ راست رابطے میں کمی لانے کیلئے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرنے اورفیس لیس آڈٹ اور اسسمنٹ سسٹم متعارف کرانےکا فیصلہ کرلیا جب کہ آئندہ مالی سال 2026-27کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل2026 کے ذریعے ٹیکس قوانین میں ترامیم تجویز کردی گئیں۔

فنانس بل میں تجویز کردہ ترامیم کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)ایف بی آر کی نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس نظام کے تحت ٹیکس کیسز خودکار نظام کے ذریعے افسران کو تفویض کیے جائیں گے،ذرائع کے مطابق فیس لیس آڈٹ اور اسسمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس سے    ٹیکس افسران اور ٹیکس دہندگان کے براہ راست رابطے میں کمی آئے گی نئے نظام میں تمام ٹیکس کارروائیاں الیکٹرانک ذرائع سے انجام دینے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق    فیس لیس سینٹر کے افسران کی شناخت خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے افسران کے احکامات شناخت کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیے جا سکیں گے تاہم    کاروبار، اثاثوں اور سرمایہ کاری کی فزیکل ویریفکیشن برقرار رہے گی۔

ذرائع کے مطابق فنانس بل میں ٹیکس انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی تجویز ہے، فیس لیس نظام سے انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات میں کمی متوقع ہے جبکہ فنانس بل میں ٹیکس معاملات میں ڈیجیٹل نگرانی اور خودکار پراسیسنگ کا نیا فریم ورک تجویز کیا گیا ہے۔