قومی بجٹ اور عام آدمی

حکومت نے مالی سال 2026-27 کا جو بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے اس کا مجموعی حجم 18 ہزار 77 ارب روپے ہے جب کہ خسارہ 7020 ارب ہے۔


ایم جے گوہر June 15, 2026

ایک وہ زمانہ تھا کہ جب جون کے مہینے میں قومی بجٹ پیش کیا جاتا تھا تو بجٹ کے اعلان سے پہلے ہی عوام الناس میں قیاس آرائیوں، افواہوں اور پیش گوئیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا تھا، دل کی دھڑکنیں اوپر نیچے ہونے لگتی تھیں کہ بجٹ میں فلاں فلاں چیز کی قیمت بڑھ جائے گی اور مہنگائی کا ایک طوفان آ جائے گا۔ غریب آدمی دہائی دیتا کہ اس کی گزر بسر کیسے ہوگی۔

بجٹ کے اعلان کے بعد سال میں صرف ایک مرتبہ ہی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تھا اور عام آدمی بھی اپنی آمدنی و اخراجات کے حوالے سے سال بھر کا کچھ نہ کچھ اندازہ لگا لیتا تھا۔ اسے معلوم ہوتا تھا کہ اب آئندہ سال کے بجٹ میں ہی چیزوں کی قیمتوں میں کمی بیشی ہوگی۔ پورا سال سکون سے گزر جاتا تھا۔ ایک یہ زمانہ ہے کہ پورا سال ہی اشیا ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں۔

جب کہ آمدنی یعنی تنخواہوں میں اضافہ سال میں صرف ایک قومی بجٹ میں کیا جاتا ہے۔ اس لیے عام آدمی کے لیے بجٹ کی کوئی اہمیت نہیں رہی کہ اس کے لیے ہر روز ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اسی باعث اس کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ملک میں غربت کا گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت اپنے تمام تر دعوؤں اور وعدوں کے باوجود تین سال گزرنے کے بعد بھی عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔

قومی بجٹ 2026ء کے اعلان سے ایک روز قبل حکومت نے جو اقتصادی سروے جاری کیا ہے اس میں واضح طور پر یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران حکومت بیش تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملک میں غربت بڑھ کر تقریباً 29 فی صد ہو گئی۔ صنعت، زراعت، خدمات، قومی بچت، سرمایہ کاری، لائیو اسٹاک، جنگلات اور ماہی گیری سمیت متعدد گیر شعبوں میں حکومت معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ بڑھ کر 833 کھرب تک پہنچ گیا ہے۔ گویا فی آدمی کا قرض تین لاکھ تیس ہزار تین سو پینسٹھ روپے ہو گیا ہے۔

اسی طرح بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے اور تقریباً 60 لاکھ کے قریب لوگ مزید بے روزگار ہو گئے ہیں۔ شرح خواندگی کی حالت یہ ہے کہ ہر تیسرا بچہ اسکول جانے سے قاصر ہے اور ہر 100 میں سے 29 لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومتی پالیسیوں کے باعث صنعت کار پریشان ہیں، ٹیکسٹائل انڈسٹری کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک کی شناخت رکھتا ہے ایشیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہمارے ہاں ہے لیکن ہمارا کاشت کار حکومت کی ناقص پالیسیوں سے نالاں اور تذبذب کا شکار ہے نتیجتاً حکومت زرعی اہداف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔ حکومت معاشی ترقی و استحکام کے دعوے کرتی ہے، سیاسی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر حکومت عین بجٹ کے اعلان والے دن قومی اخبارات میں صفحہ اول پر قومی خزانے سے جہاں عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ جمع ہوتا ہے کروڑوں روپے کے اپنی معاشی ترقی کے خودساختہ دعوؤں پر مبنی اشتہارات شائع کرواتی ہے جو اس امر کا عکاس ہیں کہ حکومت اپنی کوتاہیوں، غلطیوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے من گھڑت دعوؤں کے ذریعے عوام میں اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مبصرین اور تجزیہ نگار حکومتی دعوؤں کو خود فریبی سے تعمیر کرتے ہیں جو حکومت اپنے دعوؤں اور وعدوں کے باوجود ملک سے غربت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل حل نہ کر سکے وہ عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے اور اقتدار سے محروم ہو جاتی ہے۔

 حکومت نے مالی سال 2026-27 کا جو بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے اس کا مجموعی حجم 18 ہزار 77 ارب روپے ہے جب کہ خسارہ 7020 ارب ہے۔ بجٹ کا تقریباً 40 فی صد سے زائد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی ہدایت کی روشنی میں تیار کردہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں صرف 7 فی صد اضافہ کیا گیا ہے جو مہنگائی کے اس پرآشوب دور میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ اس پہ مستزاد حکومت بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی 36 گھریلو اشیا پر جی ایس ٹی نافذ کر دیا ہے جس سے مہنگائی کا ایک نیا سیلاب آئے گا۔ گھی، تیل، دودھ، جام، جیلی، مسالہ جات، ڈیری مصنوعات، بیکری آئٹم، سینیٹری آئٹم، زرعی ادویات وغیرہ سمیت بیشتر روز مرہ استعمال کی ضروری اشیا پر ٹیکس کے نفاذ سے غریب آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوگی۔

غربت اور بے روزگاری کے عذاب نے عام آدمی کو پہلے ہی ادھ موا کر رکھا ہے۔ خود حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوامی مشکلات کا اعتراف کر رہی ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جاتا، امیر طبقے اور لگژری اشیا پر ٹیکس لگایا جاتا، زرعی آدمی کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جاتا۔ بجائے اس کے عام آدمی کے استعمال کی چیزوں کو مہنگا کرکے غریب آدمی کو زیربار کر دیا گیا۔ نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے بھی برملا کہا ہے کہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں بھی احتجاج کیا، کاروباری طبقے نے بھی ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔