CALIFORNIA:
امریکی فضائیہ کا جوہری ہتھیار لے جانے والا انتہائی اہم اور طویل فاصلے تک مار کرنے والا بی- 52 بمبار طیارہ کیلیفورنیا کے ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے پرواز بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہو گیا.
روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بی- 52 طیارہ تباہ ہونے سے 8 افراد ہلاک ہوگئے۔
ایئر بیس انتظامیہ کے مطابق حادثے کے فوراً بعد ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال تاحال جاری ہے جبکہ حادثے کی اصل وجہ اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں حادثے کے مقام سے کالے دھوئیں کے بڑے بڑے بادل آسمان کی جانب اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں جس سے حادثے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بی- 52 طیارہ دنیا کے مشہور ترین بمبار طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طیارہ عموماً پانچ افراد پر مشتمل عملے کے ساتھ پرواز کرتا ہے اور 70 ہزار پاؤنڈ تک اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
1955 میں امریکی فضائیہ میں شامل ہونے والا یہ بمبار روایتی اور جوہری دونوں قسم کے ہتھیار حمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ طیارہ ویتنام جنگ، خلیجی جنگ، عراق، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور حالیہ ایران تنازع سمیت متعدد فوجی آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے جس کے باعث اسے امریکی فضائی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ایڈورڈز ایئر فورس بیس امریکی فضائی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 1947 میں مشہور امریکی پائلٹ چک ایئگر نے پہلی بار آواز کی رفتار کو عبور کیا تھا۔ لاس اینجلس سے تقریباً 161 کلومیٹر شمال میں واقع اس وسیع فوجی اڈے پر تقریباً 10 ہزار فوجی اہلکار، کنٹریکٹرز اور سول عملہ خدمات انجام دیتا ہے۔