برطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی برقرار، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا سخت احتجاج

انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت اور عدالتی نظام سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں


ویب ڈیسک June 16, 2026

برطانیہ کی عدالت کی جانب سے  فلسطین ایکشن تنظیم پر عائد پابندی کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر دنیا کی دو بڑی انسانی حقوق تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی کورٹ آف اپیل نے حکومت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت فلسطین ایکشن کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اس فیصلے کو تباہ کن فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک احتجاجی گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جہاں صرف پلے کارڈ اٹھانے یا حمایت کے اظہار پر ہزاروں افراد کی گرفتاری عمل میں آ سکتی ہے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج اور سیاسی اظہار رائے کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرنا جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے خطرناک نظیر ثابت ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال ہے، جس کے انسانی حقوق پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس فیصلے سے اظہار رائے، پرامن احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق بنیادی آزادیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یہ معاملہ برطانیہ میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت اور عدالتی نظام سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔