ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں، ہم آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں قانون سازی کرتےتھے، وزیر دفاع

اسد قیصرکےگھر اینٹی منی لانڈرنگ سمیت متعدد بلز پر پر ترامیم لارہے تھے تو ہماری سمت آئی ایس آئی کے افسران درست کرتے تھے


ویب ڈیسک June 16, 2026

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جہاں بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسری بار قومی اسمبلی میں آئے ہیں اور اگر کسی کا حق مار کر اسمبلی میں پہنچے ہیں تو ان پر بھی لعنت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں ہر شخص اداروں کے سربراہان کی تعریفیں کرتا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ دوبارہ بھی انہی کے ذریعے اقتدار میں آئیں گے، اسٹیبلشمنٹ کی مسلط کردہ حکومت کو چار سال ہوگئے ہیں۔

انہوں نے وزیر خزانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا غریب عوام سے کوئی تعلق نہیں اور وزیراعظم بھی ہر کام کی اجازت لے کر آتے ہیں۔

جنید اکبر خان نے کہا کہ افغانستان کی سرحد بند کرکے کاروبار تباہ کیا گیا لیکن دہشت گردی میں کمی نہیں آئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے آئین، قانون اور اداروں کو بے توقیر کیا جبکہ اپوزیشن کی آواز اٹھانے والوں کو نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف نہیں مل سکتا تو عدلیہ کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ عوام اس کی شاہ خرچیاں برداشت نہیں کر سکتے۔

اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اداروں اور ان کی قیادت کی تعریف کارکردگی کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے عالمی حالات میں ایسا کردار ادا کیا جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایک ہیرو ہیں، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔

عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر سودے بازی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، تاہم ان کی جماعت صرف ملک کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے، کسی سیاسی جماعت کے مفاد میں نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں تو تمام معاشی اعداد و شمار بے معنی ہیں۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ہم حکومت اور اپوزیشن میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے اپنا ماضی بھول جاتے ہیں، اس ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کی قیادت بیٹھتی ہے، جب ہم کرسیاں تبدیل ہوتے ہی الفاظ بدل لیتے ہیں۔

سابق اسپیکر اسد قیصر کے گھر جنرل فیض کے بھیجے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرتے تھے، میں اعتراف کرتا ہوں کہ اسد قیصر کے گھر ہم آئی ایس آئی کے افسران کی موجودگی میں قوانین کی نوک پلک درست کرتے تھے، میں اپنے ضمیر کا بوجھ سچ بول کر ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ جب ہم اینٹی منی لانڈرنگ سمیت متعدد بلز پر پر ترامیم لارہے تھے تو ہماری سمت آئی ایس آئی کے افسران درست کرتے تھے، اب یہ ہمیں طعنے دیتے ہیں حالانکہ یہی سب کچھ یہ کرتے رہے ہیں، ہمیں کس منہ سے طعنے دیتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ و ایران کے معاہدے میں پاکستان ناممکن کو ممکن کر دکھایا، بھارت کے ساتھ جنگ میں   بھی پاکستان نے وہ کر دکھایا جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا،  یہ دونوں فخر ہمارے سب کے لئے ہے، مودی نے معاہدے پر ٹرمپ کو مبارک باد دی مگر پاکستان کا نام تک نہیں لیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم قابلِ تحسین ہے اور سب کو اس پر شکر گزار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جن میں ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہوں۔

خواجہ آصف کے مطابق بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ بیان میں پاکستان کا نام لیے بغیر بات کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صورتحال کی حساسیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی اور راستوں کی صورتحال تشویشناک ہے اور اس کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور اگر ایران پر پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو پاکستان کو بھی فوری معاشی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد بار کوششیں کی گئیں، جن میں وہ خود بھی دو مرتبہ کابل گئے اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی ان کے ہمراہ تھے، تاہم تحریری ضمانت نہ ملنے کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خدشات موجود ہیں اور اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ خواجہ آصف کے مطابق 2022 سے اب تک سکیورٹی صورتحال کے دوران بڑی تعداد میں جوانوں نے قربانیاں دی ہیں، اور ملک نے طویل عرصے تک خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں مہاجرین بھی سیٹیں ہیں، مہاجرین کشمیر نے خون کی لکیر کراس کی ہوئی ہے، کے ایچ خورشید اور چوہدری غلام عباس مقبول بٹ شہید کیا کشمیری مہاجرین نہیں تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آج غیر ملکی سرمایہ سے چلنے والی تنظیم ہمیں بلیک میل کررہی ہے ، الیکشن ہونے دیں پھر وہ فیصلہ کرلیں مہاجرین کی سیٹوں کا کیا کرنا ہے، جلسے جلوسوں کو مہاجرین کی سیٹی ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔