آفس ٹوائلٹ کے استعمال پر لیگی ایم پی اے کے بیٹےکے ساتھ تنازع؛ ڈی پی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے شاہد بھٹی اپنے بیٹے کے ساتھ حافظ آباد ڈی پی او کے دفتر گئے


ویب ڈیسک June 16, 2026

پنجاب میں 18 گریڈ کے پولیس افسر کامران حامد کو مبینہ طور پر سیاسی طور پر بااثر تارڑ خاندان سے بھی قریبی تعلق رکھنے والے حکمران جماعت کے مقامی ایم پی اے کے ساتھ جھگڑے کے بعد حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے بعد آئی جی پنجاب کے حکم پر ہونے والی انکوائری میں ڈی پی او کو قصوروار قرار دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو ہدایت کی  کہ وہ دونوں فریقین کو سنیں اور یہ معلوم کریں کہ ’ن لیگ کے ایم پی اے کے بیٹے کی جانب سے ڈی پی او آفس کے بیت الخلا کے استعمال پر تنازع‘ کا ذمہ دار کون ہے۔

تفصیلات بتاتے ہوئے سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے شاہد بھٹی اپنے نوجوان بیٹے اور اپنے حلقے کے کچھ شکایت کنندگان کے ساتھ حافظ آباد ڈی پی او کے دفتر گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے نے ڈی پی او کامران حامد کے دفتر کا دورہ کیا کیونکہ وزیراعلیٰ نے حکمراں جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ متعلقہ ضلعی پولیس کے سربراہ کی موجودگی میں مقامی لوگوں کے پولیس سے متعلق معاملات کو حل کریں۔

افسر کا کہنا ہے کہ جب میٹنگ جاری تھی، تو ن لیگ کے ایم پی اے کا جوان بیٹا موبائل فون پر کال اٹینڈ کرتے ہوئے دفتر میں داخل ہوا، ان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے نے ڈی پی او آفس میں موبائل فون استعمال کرنے پر اپنے  بیٹے کو ڈانٹ کر کال منقطع کرنے کا  کہا۔

افسر کا کہنا ہے کہ نوجوان بعد میں ڈی پی او کے ریٹائرنگ روم میں ان کا بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے گیا،  جب وہ ریٹائرنگ روم سے باہر آیا تو ڈی پی او نے استفسار کیا کہ ان  کی اجازت کے بغیر ان کا "ذاتی" واش روم کیوں استعمال کیا۔

ایم پی اے کے بیٹے نے اسی لہجے میں جواب دیا کہ یہ پبلک آفس ہے، ڈی پی او کا ’’ذاتی‘‘ واش روم نہیں، ڈی پی او کو حاضرین کی موجودگی میں ایسے شرمناک ردعمل کی توقع نہیں تھی۔

افسر کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دونوں فریقین میں سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اور مبینہ طور پر پولیس افسر نے غصے میں آکر ایم پی اے کے بیٹے سے کہا کہ ’یہاں سے نکل جاؤ‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے نے مداخلت کی اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں اپنے بیٹے کو پرسکون رہنے اور دفتر چھوڑنے کا مشورہ دیا۔

جیسے ہی ایم پی اے ڈی پی او کے دفتر سے باہر نکلا، علاقے کے کچھ لوگوں نےتو ان کے ہمراہ موجود لوگوں نے ڈی پی او کے طرز عمل کو "علاقے کی اہم سیاسی شخصیت" کی توہین قرار دیتے ہوئے کشیدگی کو ہوا دی۔

افسر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے ٹوائلٹ کموڈ کی تصویر کے ساتھ،  تنقیدی پوسٹ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی، جس کا عنوان "گیٹ لاسٹ" تھا، جس سے تنازعہ کو مزید ہوا ملی۔

افسر کا کہنا ہے کہ ایم پی اے بعد میں یہ معاملہ مسلم لیگ (ن) کی سینئر سیاستدان سائرہ افضل تارڑ کے نوٹس میں لایا، جنہوں نے یہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے اٹھایا۔

دریں اثنا بااثر سیاسی خاندان نے ڈی پی او کے تبادلے کے لیے لابنگ شروع کردی کیونکہ یہ معاملہ حافظ آباد میں زبان زد عام ہوگیاجہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پہلے ہی پولیس افسر کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی تھی۔

بعد ازاں ایم پی اے نے اپنے بیٹے کے ہمراہ پنجاب انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) عبدالکریم کے دفتر کا دورہ کیا اور ڈی پی او حافظ آباد کے "ناقابل قبول رویہ" کی شکایت کی۔

پوچھ گچھ پر، ڈی پی او نے مبینہ طور پر آئی جی پی کو بریف کیا کہ انہوں نے اپنے دفتر کے واش روم کے استعمال پر صرف اس لیے اعتراض کیا تھا کہ ان کے ریٹائرنگ روم میں سرکاری فائلوں کے علاوہ ان کا کچھ ذاتی سامان پڑا ہوا تھا۔

تاہم، افسر کا کہنا ہے کہ آئی جی پی پولیس افسر کی طرف سے دی گئی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ کو دی۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی جی پی کی رپورٹ کی روشنی میں کامران حامد کو بعد میں وزیراعلیٰ کے حکم پر عہدے سے ہٹا دیا گیا، انہیں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) میں تعینات کیا گیا جو کہ نسبتاً کم اہم عہدہ ہے۔