میرپور آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کے گھر مشکوک سرگرمیوں کا انکشاف ہونے کے ساتھ ساتھ اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈیڈیال میرپور میں کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے ممبر مہران کے گھر پر چھاپا مارا اور تلاشی کے دوران گھر سے ایک عدد ڈرون، 12 بور گن، گولیاں، ایک پسٹل سمیت اسلام آباد پولیس سے چھینا گیا ہیلمیٹ اور مشکوک سامان برآمد ہوا۔
کالعدم تنظیم کے سرغنہ مہران کے ملازم شاہد اسلم کے مطابق مہران نے دھرنے میں جاتے ہوئے سامان منتقل کرنے کے لیے 2 ایمبولینسیں گھر منگوائی تھیں۔ ایمبولینسز کے ذریعے اسلحہ، گولیاں اور دیگر سامان خفیہ طور پر مظفر آباد منتقل کیا گیا۔
ملازم نے بتایا کہ مہران 5 کلاشنکوفیں، 2 بارہ بور بندوقیں اور بڑی تعداد میں گولیاں بھی ساتھ لے کر گیا ہے۔ ملازم کے مطابق پتھر، کانچ کی بوتلیں اور غلیلیں بھی دھرنے کے لیے استعمال کی جاتی رہیں۔ بھاری مقدار میں نقد رقم اور سرغنہ لطیف ڈار کی طرف سے دی گئی رقم بھی ساتھ لے کر گیا ۔
تفتیش کے دوران ملازم نے بتایا کہ 29 ستمبر کے لانگ مارچ میں چھینی گئی پولیس شیلنگ گنز بھی ایمبولینسز کے ذریعے مظفر آباد منتقل کی گئیں۔ دھرنے میں مہران 2 کلو چرس بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔ مہران کے ساتھ 6 سے 7 اشتہاری ڈاکو اور منشیات مافیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہران کے گھر سے برآمد اسلحہ اور دیگر مشکوک سامان ثابت کرتا ہے کہ یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے۔ کالعدم تنظیم کی جانب سے عوامی حقوق کی آڑ میں اسلحہ کے زور پر منظم بغاوت کی تیاریاں کی گئیں۔
اسلام آباد پولیس کا ہیلمٹ برآمد ہونا ثابت کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سامان چھینا گیا۔