ایران اور امریکا معاہدہ

امریکا،اسرائیل نے ایران پر جو جنگ تھوپی تھی،اس سے پہلے امریکا کا یہ بھرم قائم تھا کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے


عبد الحمید June 19, 2026

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔اسرائیل کی شہ اور ایما پر چار مہینے پہلے شروع کی جانے والی امریکی جنگ یا فوجی کارروائی کے باضابطہ خاتمے کا اعلان اتوار 14جون کی شام کو ہو گیا۔دونوں اطراف کے مثبت بیانات کے بعد طے یہ ہوا تھا کہ جمعہ 19جون 2026کو سوئٹزرلینڈ میں ایک تقریب میں مفاہمتی یادداشت Memorandum of Understandingپر دستخط ہوں گے۔ ابتدائی بیان میں دو تبدیلیاں آئیں۔ پہلے یہ تبدیلی آئی کہ جینیوا میں نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ میں ہی ایک اور مقام پر دستخط ہوں گے۔

دوسری اور بہت بڑی تبدیلی یہ آئی کہ G-7ممالک کی پیرس میں میٹنگ کے موقع پر صدر میکرون کی طرف سے دی گئی ضیافت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے۔اس کے بعد ایران کے صدر جناب مسعود پزشکیان نے بھی دستخط کر دیے۔دونوں اطراف سے اس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی۔ اب اس مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط بھی ہو چکے ہیں اور 17جون کو دونوں حریف ممالک کے صدور نے بھی اپنے اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں۔اس طرح اب یہ ایک آفیشل ڈاکومنٹ بن گیا ہے۔وزیرِ اعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

خدا کرے کہ اب تمام محاذوں پرجنگ بند ہو کر امن ہو جائے۔مفاہمتی یادداشت میں غالباً فلسطینی مسئلے کے حل کا کوئی ذکر نہیں لیکن امید کرنی چاہیے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کو اس اہم مسئلے پر پیش رفت کے لیے راضی کریں گے اور فلسطین کی سرزمین بھی امن کی جانب قدم اٹھا سکے گی۔لبنان میں جنگ بندی بہت اہم ہے۔امریکا کو بہت پرو ایکٹو کردار ادا کر کے لبنان میں مستقل جنگ بندی کروانی اور اسرائیلی افواج کا انخلا ممکن بنانا ہوگا۔پچھلے دو تین دنوں سے تہران اور دوسرے تمام ایرانی شہروں میں جشن کا سا سماں ہے۔لوگ بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔نامہ نگاروں نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی خوشی اور اطمینان محسوس کر رہے ہیں اور اگر کوئی پاکستانی نظر آ جاتا ہے تو اس سے بغل گیر ہوتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔

امریکا،اسرائیل نے ایران پر جو جنگ تھوپی تھی،اس سے پہلے امریکا کا یہ بھرم قائم تھا کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور کسی بھی جگہ پہنچ کر تباہی و بربادی لا سکتا ہے۔امریکا نے مختلف خطوں اور ممالک میں آٹھ سو کے قریب فوجی اڈے قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ اڈے محض دکھاوا نہیں، یہ فوجی کارروائی کے لیے ہیں۔اس کے علاوہ امریکا کے جدید ترین اور بہترین اسلحے سے لیس بحری بیڑے سطحِ آب پر فوجی اڈوں سے بھی زیادہ کارآمد ہیں۔اس جنگ سے پہلے دنیا کا ہر ملک امریکی فوجی اقدام سے خوف کھاتا تھا۔ لیکن بھلا ہو نتن یاہو کا کہ اس نے امریکا کو خواہ مخواہ کی انتہائی غیر ضروری جنگ میں دھکیل کر اور شدید ناکامی سے دوچار کر کے امریکا کا سپر پاور ہونے کا بھرم توڑ دیا۔ایران نے بلاشبہ بہت مار کھائی،بہت نقصان اٹھایا،اس کے سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ فوجی،عسکری و سائنسی قیادت ماری گئی لیکن جھکنے سے انکار کر کے امریکا و اسرائیل کے تمام اہداف ناکام بنا دیے۔

امریکا 1979سے تاؤ کھائے بیٹھا تھا کہ تہران میں اس کے سفارت خانے پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قبضے کا بدلہ اور انتقام لے۔ادھر اسرائیل خطے میں مکمل بالادستی چاہتا تھا لیکن اس بالادستی کے راستے میں ایران اور پاکستان کو حائل گردانتا تھا۔پاکستان الحمد ﷲ ایٹمی قوت حاصل کر کے اور بہترین تربیت یافتہ افواج کے ہوتے ہوئے اسرائیل کی پہنچ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دور ہو چکا ہے لیکن ایران کو ایک ایٹمی قوت بننے اور مضبوط دفاع کا حامل ملک بننے سے روکنا اسرائیل کا بڑا ہدف تھا اور ہے۔امریکا،اسرائیل دونوں کی خواہش تھی کہ ایران کی مذہبی و عسکری قیادت کی زندگی ختم کر کے اور ٹاپ سائنس دانوں کو مار کر اپنی مرضی کی حکومت لے آئیں۔سابق شاہِ ایران کے ولی عہد بیٹے جو امریکا میں ہی مقیم ہیں،پر تو لے انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب بلاوا آئے۔

امریکا و اسرائیل کا خیال تھا کہ حملہ ہوتے ہی اور اعلیٰ ترین قیادت کے ختم ہوتے ہی ایرانی عوام موجودہ حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔سابق شاہ کے بیٹے اس سلسلے میں اپنی وفاداری کی یقین دہانی کروانے متعدد بار اسرائیل بھی گئے۔ان کے علاوہ بھی موجودہ ایرانی حکومت کے کئی مخالفین قطار لگائے انتظار میں تھے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے امریکا و اسرائیل کی رجیم چینج کی خواہش پوری ہو۔اس کے لیے ایرانی عوام کو داد دینی ہو گی۔ جس طرح یوکرین پر حملہ کر کے روس تا حال ناکام رہا ہے اسی طرح امریکا و اسرائیل کی ناکامی سے امریکا کا بھرم خاک آلود ہو چکا ہے۔

اس غیرضروری و غیر قانونی جنگ میں خلیجی عرب ممالک کی اس خوش فہمی کہ امریکا کو فوجی اڈے مہیا کر کے وہ اپنے دفاع کو مضبوط اور یقینی بنا سکتے ہیں،کو شدید زک پہنچی۔امریکی اڈے ان ممالک کے دفاع کے بجائے ان کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوئے۔پتہ نہیں خلیجی عرب حکمران اور ان ممالک کے عوام اس کو کس طرح سے لے رہے ہیں لیکن یہ اب بہت واضح ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے علاوہ کسی بھی اور ملک کے ساتھ نہیں کھڑا۔ یہ بھی عیاں ہے کہ یہ ممالک امریکا و اسرائیل کو جتنی بھی سپیس دیں،اگر اسرائیل چاہے تو وہ ان ممالک پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور امریکا ان خلیجی ممالک کی مدد کو ہرگز نہیں آئے گا۔اس جنگ سے کچھ ہی عرصہ پہلے اسرائیل کے قطر پر حملے نے اس حقیقت کی گواہی دے دی۔خلیجی حکمران پچھلی سات آٹھ دہائیوں سے اپنے دفاع کے لیے کلی طور پر امریکا پر انحصار کیے بیٹھے تھے،اب ان کو اپنے دفاع کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے اور خود کو دفاعی طور پر تیار کرنا ہوگا۔

پاکستان اس سلسلے میں اپنے عرب بھائیوں کی مدد کر سکتا ہے۔سعودی عرب پہلے ہی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر چکا ہے۔اس جنگ نے امارات،کویت اور بحرین کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس جنگ کے ان ممالک کی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔