امیر المومنین سیدنا عمرؓ کا طرز حکمرانی اور آج کا استحصالی نظام

پورے عالم اسلام میں یکم محرم الحرام یوم شہادت سیدنا عمر ابن خطاب کے طور پر منایا جاتا ہے۔



مرادِ مصطفی ﷺ، امیر المومنین، سیدنا و مولانا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ تاریخِ انسانیت کے افق پر عدل و انصاف کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنھیں بارگاہِ رسالت سے "الفاروق" کا وہ لازوال لقب عطا ہوا جس نے حق اور باطل کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی جو قیامت تک مٹ نہیں سکتی۔

آپ اسلام کے وہ خلیفہِ ثانی اور فاتحِ اعظم ہیں جن کے رعب و جلال سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھے مگر آپ کا ذاتی استغنا ایسا تھا کہ امت نے آپ کو "شاہِ مدینہ کا درویشِ باصفا" اور "پیکرِ زہد و تقویٰ" پایا۔ آپ عالمِ عادل بھی تھے اور محسنِ انسانیت بھی، جنھوں نے خلافت کو عیش و عشرت کے بجائے آخرت کی جوابدہی کا کڑا امتحان بنا دیا۔ سادگی، انکساری اور فقر کے اس تاجدارِ کا ہر نقشِ قدم رہتی دنیا تک کے منصفوں اور حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور آپ کا یہی جلال و جمال آپ کو تاریخِ عالم کا سب سے ممتاز حکمران بناتا ہے۔ آئیے آج کے کالم میں دور فاروقی کی لازوال یادوں کے جھروکوں میں دیکھتے ہیں اور اپنے حال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

پورے عالم اسلام میں یکم محرم الحرام یوم شہادت سیدنا عمر ابن خطاب کے طور پر منایا جاتا ہے۔ شہادت کا وہ سرخ اور رقت آمیز سویرا جب مدینہ منورہ کی فضاؤں میں سسکیاں گونج اٹھیں اور مسجدِ نبوی کی محراب رسولﷺ خلیفہِ ثانی کے خون سے رنگین ہو گئی، وہ تاریخِ اسلام کا ایسا المناک ترین دن تھا جس نے کائنات کو عدل و انصاف کے سب سے بڑے علمبردار سے محروم کر دیا۔ امیر المومنین سیدنا عمر ابن خطابؓ کا یومِ شہادت محض ایک تقویمی تاریخ نہیں بلکہ زہد وتقویٰ، فقر واستغنا اور رعایا پروری کے اس لازوال باب کی یاد ہے جس کی دوسری مثال پیش کرنے سے انسانی تاریخ کے اوراق اب تک قاصر ہیں۔

آج جب ہم ان کے یومِ شہادت کی مناسبت سے دلوں میں عقیدت اور آنکھوں میں آنسو لیے ان کے اسوہِ مبارک پر غور کرتے ہیں تو فاروقِ اعظمؓ کا وہ جلال و جمال، ان کا رعب دار سراپا اور ان کا وہ تڑپتا ہوا دل آنکھوں کے سامنے بیدار ہو جاتا ہے جو آدھی دنیا کا حکمران ہونے کے باوجود اپنی رعایا کے دکھ میں راتوں کو تڑپا کرتا تھا۔ یہ دن کائنات کے ہر منصف اور صاحبِ اقتدار کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جب حکومت خدا کے خوف سے لرزنے والے سچے مومن کے ہاتھ میں ہو، تو قیصر و کسریٰ کے تاج و تخت بھی ایک درویش کی چادر کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کی نجی و سرکاری زندگی سادگی اور انکساری کا ایک ایسا دل پذیر مرقع تھی جس کی چمک نے دنیا کے ظاہری جاہ و جلال کو گہنا دیا تھا۔

دنیا کے مورخین حیران ہیں کہ ایسا حکمران جو لاکھوں مربع میل پر محیط سلطنت کا تنہا مالک ہو وہ زیتون کے کڑوے اور روکھے تیل کے ساتھ سوکھی روٹی کھا کر خدا کا شکر ادا کرتا تھا۔ جب خلافتِ راشدہ کی سرزمین پر قحط سالی کا دور آیا، جسے عام الرمادہ کہا جاتا ہے تو آپ نے قسم کھا لی کہ جب تک مدینے کے غریب بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں ہوگا عمر اپنے اوپر گوشت اور گھی کو حرام سمجھے گا۔ اس دوران آپ کا رنگ مبارک بھوک اور فکر سے سیاہ پڑگیا مگر آپ نے عوام کے درد کو اپنے وجود پر جھیلا۔ سادگی کا یہ سفر اس وقت بامِ عروج پر نظر آتا ہے جب آپ فاتحِ بیت المقدس بن کر یروشلم کی چابیاں لینے روانہ ہوئے۔

پوری سلطنت کا خلیفہ سفر کر رہا ہے مگر سواری کے لیے صرف ایک اونٹ ہے، جس پر باری باری خلیفہ اور ان کا غلام بیٹھتے ہیں۔ جب شہر کے قریب پہنچے تو باری غلام کی تھی چنانچہ دنیا کی تاریخ نے وہ بے نظیر منظر دیکھا کہ آدھی دنیا کا شہنشاہ پیدل چل رہا تھا، ان کے کپڑوں پر سفر کی گرد اور پیوند لگے تھے، اونٹ کی نکیل ان کے اپنے ہاتھ میں تھی اور ان کا غلام اونٹ پر سوار امنگوں کے ساتھ شہر میں داخل ہو رہا تھا۔

فاروقی نظامِ حکومت کا اصل حسن ان کا وہ انقلابی اور بے مثال طرزِ حکمرانی تھا جس نے اقتدار کو عیاشی کے بجائے آخرت کی جوابدہی کا ایک کڑا امتحان بنا دیا تھا۔ جب رات کا اندھیرا پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا مدینے کی گلیاں سنسان ہو جاتیں اور لوگ میٹھی نیند سو رہے ہوتے تو اللہ کا یہ جلیل القدر بندہ اپنی نیند کو قربان کر کے عام شہریوں کا سا بھیس بدل کر گلیوں، محلوں اور مدینے کے گردونواح کا پیدل گشت کیا کرتا تھا تاکہ کسی مظلوم، مسافر یا حاجت مند کی آہ ان کے کانوں تک پہنچ سکے۔ ان کے دل میں رعایا کی جوابدہی کا خوف اس حد تک سرایت کر چکا تھا کہ وہ رو کر فرمایا کرتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا یا بھیڑ کا بچہ بھی بھوک اور پیاس سے مر گیا تو قیامت کے ہولناک دن عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔

جب ہم اس پاکیزہ، سچے اور سنہرے اسوہ فاروقی کے آئینے میں آج کی مسلم امہ اور بالخصوص اپنے ملک کے حکمرانوں کے سیاہ کردار کو دیکھتے ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کہاں وہ چودہ پیوند لگا کر گلیوں کی خاک چھاننے والا اور اپنی کمر پر راشن اٹھانے والا خلیفہ اور کہاں آج کے یہ شاہانہ ٹھاٹ باٹھ، تکبر اور فرعونی مزاج رکھنے والے حکمران۔ آج کے مقتدر طبقے کے محلات، ان کے اربوں روپے کے ذاتی پروٹوکولز، سڑکیں بند کر کے گزرنے والے بلٹ پروف قافلے اور بیرونی ممالک کے پرتعیش دورے سادگیِ فاروقی کا سرعام مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔

آج کے حکمران رعایا کے دکھ درد، ان کی سسکیوں اور ان کی چیخوں سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ انھیں عوام کی خبر گیری کے لیے راتوں کو نکلنے کی توفیق تو دور کی بات، وہ دن کے اجالے میں بھی کسی غریب کا چہرہ دیکھنا یا اس سے ہاتھ ملانا گوارا نہیں کرتے۔ وہ ایئر کنڈیشنڈ ایوانوں، بند محلوں اور فول پروف سیکیورٹی کے حصار میں بیٹھ کر غریبوں کی تقدیر کے ظالمانہ فیصلے کرتے ہیں جب کہ ان کی اپنی شاہ خرچیاں اور عیاشیاں قومی خزانے کے اسی پیسے سے پوری ہوتی ہیں جو غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس کی صورت میں نچوڑا جاتا ہے۔ ابھی چند روز قبل بجٹ پیش ہوا ہے جس پر بے معنی بحث کا سلسلہ محض رسمی کارروائی کے لیے جاری ہے۔ اس بجٹ میں جس بے حسی، سنگدلی اور بدترین عوام دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس نے فاروقی نظامِ عدل کی بری طرح نفی کی ہے۔

سیدنا عمر فاروقؓ کے یومِ شہادت کے اس مقدس، رقت آمیز اور فکر انگیز موقع پر ہمیں صرف تاریخ کے اوراق پلٹ کر رسمی تقریریں نہیں کرنی اور نہ ہی صرف آنسو بہانے ہیں بلکہ اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنے نظام کو بدلنا ہے۔ آج کے بے حس، ظالم اور عیاش حکمرانوں کو فاروقِ اعظمؓ کے اس روضہ مبارک اور اللہ احکم الحاکمین کی اس عدالت کو یاد کرنا ہوگا جہاں ایک ایک مظلوم کی آہ اور بیت المال کے ایک ایک پیسے کا حساب دینا ہوگا۔ اگر یہ حکمران واقعی ملک و ملت کو اس بھیانک تباہی، معاشی غلامی اور اندھیرے بحران سے نکالنا چاہتے ہیں، تو انھیں اپنے شاہانہ پروٹوکولز کو ترک کرنا ہوگا، اپنی ناجائز مراعات کو غریبوں کے نام پر قربان کرنا ہوگا، سادگیِ عمرؓ کو عملی طور پر اپنانا ہوگا اور بجٹ جیسے بڑے فیصلوں میں اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو توڑ کر ملک کے غریب، یتیم، مسکین اور بیواؤں کو اولیت دینا ہوگی۔ جب تک اس دھرتی پر عمر فاروقؓ کے نظامِ عدل، ان کی بے باک سادگی اور ان کی بے لوث رعایا پروری کی کوئی سچی جھلک ہمارے قوانین اور فیصلوں میں بیدار نہیں ہوتی، تب تک یہ ملک فلاحی ریاست بن سکتا ہے اور نہ ہی اس کے عوام کی بے بسی، بھوک اور سسکیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر عدلِ فاروقی کا علم بلند کیا جائے۔