پشاور:
خیبر پختونخوا حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے لیز پر دی گئی متروکہ وقف املاک اور 5 مرلے کے گھر پر ٹیکس عائد کر دیا۔
فنانس بل کے مطابق موٹر وہیکل ایکٹ 1958 میں ترمیم کرتے ہوئے کمرشل بنیادوں پر چلنے والی گاڑیوں پر نئے ٹیکس شرح نافذ کر دی گئی۔
رکشہ پر 1000 روپے سالانہ، چار نشستوں والی گاڑی پر 1500 روپے جبکہ 6 نشستوں والی گاڑیوں پر سالانہ 2000 روپے ٹیکس نافذ کر دیا گیا۔ 15 نشستوں والی گاڑیوں پر 400 روپے فی نشست اور اس سے زائد نشستوں والی گاڑی پر 500 روپے فی نشست ٹیکس عائد کیا گیا۔
فنانس بل کے مطابق ہوٹلوں سے سالانہ کمروں کی تعداد اور حقیقی آمدورفت کی بنیاد پر 5 فیصد ٹیکس وصولی کی جائے گی، جن ہوٹلوں میں پی او ایس سسٹم دستیاب نہ ہو ان سے رہائشی یونٹس کے 50 فیصد کی بنیاد اور حقیقی کمرہ کرایہ کے 10 فیصد کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
بل کے مطابق جو بھی شخص ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ تک ریٹرن جمع نہیں کرائے گا اس پر جرمانہ اور اضافی سرچارج عائد ہوگا، جو شخص ٹیکس خدمات کی فراہمی سے قبل رجسٹریشن درخواست دینے میں ناکام رہے اسے کم از کم 4 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔
فنانس بل کے مطابق جو قابل ٹیکس خدمات فراہم کرنے کے 90 دن کے اندر رجسٹر ہونے میں ناکام رہے اسے ایک سال تک قید یا اس کی ٹیکس کی رقم تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی، جو رجسٹریشن کی تفصیلات میں تبدیلی کا مرتکب ہو اسے 25000 روپے جرمانہ کیا جائے گا۔
ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں مقررہ تاریخ تک ناکامی کی صورت میں یومیہ 300 روپے جرمانہ ہوگا، ریسٹورنٹ انوائس منیجمنٹ سسٹم کی تنصیب میں ناکامی کی صورت میں 5 لاھ روپے جرمانہ یا متعلقہ ٹیکس کا پانچ فیصد جرمانہ ہوگا۔