وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور کی پیش کردہ پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 منظور کر لی۔
ترجمان وفاقی مذہبی امور کے مطابق پرائیویٹ حج کے لیے کوٹہ سسٹم کے بجائے کارکردگی اور کمپلائنس پر مبنی نظام نافذ ہوگا جبکہ موجودہ حج آپریٹرز کی دوبارہ جانچ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پرائیویٹ حج کوٹہ "پہلے آئیں، پہلے پائیں" بنیاد پر مختص ہو گا جبکہ کم از کم 2 ہزار حجاج کی بکنگ ہر آپریٹر کے لیے لازمی ہوگی اور اس سے کم بکنگ پر کمپنی غیر فعال قرار دی جائے گی۔
ترجمان مذہبی امور کے مطابق ناکام کمپنیوں کی نصف سیکیورٹی ضبط، حجاج کو خودکار طور پر دوسری کمپنیوں میں منتقل کیا جائے گا جبکہ تمام حج کمپنیوں کی آزاد ماہرین کے ذریعے جانچ اور درجہ بندی ہوگی۔
کابینہ کی منظور کردہ پالیسی کے مطابق پرائیوٹ حج آپریٹرز کو تین سال کیلیے لائسنس جاری کیا جائے گا، کوٹہ کی خرید و فروخت ممنوع ہوگی جبکہ کارٹل سازی اور اجارہ داری پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
ترجمان مذہبی امور کے مطابق پرائیویٹ حج آپریشنز مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت چلائے جائیں گے جبکہ حج بکنگ صرف پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل (PHMP) کے ذریعے ہوگی، پرائیویٹ حج پورٹل نادرا اور اسٹیٹ بینک سے منسلک ہو گا۔
منظور کردہ پالیسی کے تحت نقد بکنگ یا کیش لین دین پر مکمل پابندی عائد ہوگی جبکہ حج کمپنیاں حجاج کے فنڈز اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گی۔ سعودی سروس فراہم کنندگان کو ادائیگیاں براہِ راست کی جائیں گی۔
ترجمان کے مطابق سعودی عرب میں تمام حج ادائیگیاں اسٹیٹ بینک کے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے ہوں گی، نئی پالیسی سے شفافیت، احتساب اور حاجیوں کے تحفظ کو فروغ ملے گا اور پاکستان کا پرائیویٹ حج نظام سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ہو گا۔