مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی اسٹیشنز حقیقت کے قریب تر

اس ٹیکنالوجی کی بدولت انسان طویل عرصے تک خلا میں رہ سکیں گے


ویب ڈیسک June 20, 2026

ایسے خلائی اسٹیشنز، جو مصنوعی کششِ ثقل پیدا کر سکیں گے اور انسانوں کو نظامِ شمسی کی گہرائیوں تک سفر کے قابل بنائیں گے، اب حقیقت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

امریکی کمپنی واسٹ ایک بڑے اور جدید خلائی رہائشی مرکز پر کام کر رہی ہے جو گردش کے ذریعے پیدا ہونے والی سینٹریپیٹل فورس سے مصنوعی کششِ ثقل پیدا کرے گا۔

اس ٹیکنالوجی کی بدولت انسان طویل عرصے تک خلا میں رہ سکیں گے۔ بغیر اس کے کہ انہیں زیرو گریویٹی کے شدید مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس طرح مریخ اور اس سے بھی دور مقامات تک طویل المدت انسانی مشن ممکن ہو سکیں گے۔

کمپنی کے نائب صدر ٹام شیلے نے کہا کہ مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی اسٹیشن ہمیں خلا میں پہلے سے کہیں زیادہ دور اور گہرائی تک جانے کا موقع فراہم کریں گے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ خلا میں موجود انسانوں کو ایک بڑا مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ مائیکرو گریویٹی کی وجہ سے ان کی ہڈیاں کمزور اور پٹھے سکڑنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر آپ مصنوعی کششِ ثقل پیدا کر لیں تو انسان اسی طرح کے ماحول میں زندگی گزار سکتے ہیں جیسا زمین پر ہوتا ہے۔

ان کے مطابق سائنسی نظریات بتاتے ہیں کہ اس صورت میں انسان زیادہ عرصے تک خلا میں رہ سکیں گے اور یوں مزید دور اور گہرے خلائی مشن انجام دینا ممکن ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر سائنس دانوں کا کام ایک ہی ہے اور وہ ہے انسانوں کو زندہ اور محفوظ رکھنا۔