وفاقی حکومت 407 کھرب سے زائد غیر تصویبی لازمی اخراجات کی تفصیلات آج قومی اسمبلی میں پیش کریگی

سب سے زیادہ رقم ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور ان پر سود کی مد میں رکھی گئی ہے


ویب ڈیسک June 20, 2026
—فوٹو: فائل

وفاقی حکومت آج قومی اسمبلی میں مالی سال کے لیے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی تفصیلات پیش کرے گی جن کے لیے مجموعی طور پر 407 کھرب 41 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ رقم ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور ان پر سود کی مد میں رکھی گئی ہے۔ ملکی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے 259 کھرب 92 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں جبکہ ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 58 کھرب 36 ارب روپے سے زائد اور غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 10 کھرب 71 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ قلیل مدتی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی ایک کھرب 30 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔

عدلیہ کے اخراجات کے لیے سپریم کورٹ کو 7 ارب 44 کروڑ روپے، وفاقی آئینی عدالت کو 6 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو 2 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق آڈٹ کے اداروں کے لیے 9 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد، وفاقی محتسب کے لیے 2 ارب 12 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب کے لیے 64 کروڑ 55 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انتخابی امور کے لیے 10 ارب 57 کروڑ 75 لاکھ روپے کی رقم رکھی گئی ہے، جبکہ گرانٹس اور متفرق اخراجات کی مد میں 57 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پارلیمنٹ کے ایوانوں کے لیے قومی اسمبلی کو 7 ارب 96 کروڑ روپے اور سینیٹ کو 6 ارب 42 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں صدرِ مملکت کے سرکاری و ذاتی دفاتر کے ملازمین کے اکاؤنٹس اور دیگر انتظامی اخراجات کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں