1200 ارب روپے صوبوں نے وفاق کو دینا تھے، ہم نے ادائیگی کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی، مزمل اسلم

ایف بی آر نے 1150 ارب روپے ہدف سے کم وصول کیے، ایف بی آر 78 سال سے اپنے اہداف سے کم وصولیاں کر رہی ہے


ویب ڈیسک June 20, 2026

مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خسارے کا بجٹ پیش کیا، حکومت مشاورت کا وقت نہیں دے رہی تھی۔ 1200 ارب روپے صوبوں نے وفاق کو دینا تھے، تاہم ہم نے وفاقی حکومت کو ادائیگی کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے 1150 ارب روپے ہدف سے کم وصول کیے، جبکہ ایف بی آر 78 سال سے اپنے اہداف سے کم وصولیاں کر رہی ہے۔ وفاق کے بیانات کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، مزمل اسلم۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے خسارے کا بجٹ وفاق سے مزاحمت پر پیش نہیں کیا۔ اگر صرف بندوبستی علاقے کا بجٹ دیا جائے تو بجٹ سرپلس ہوتا۔ 121 ارب روپے صرف قبائلی اضلاع کا خسارہ ہے اور وفاق نے این ایف سی میں قبائلی علاقوں کا حق نہیں مانا۔ خسارے کا بجٹ آسانی سے سرپلس میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ اگر وفاق قبائلی علاقوں کا این ایف سی حصہ دیتا تو 95 ارب روپے کا سرپلس ہو سکتا تھا، مزمل اسلم۔

مزمل اسلم نے کہا کہ محصولات کا ہدف 129 ارب روپے تھا جو 134 سے 140 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ ٹیکسوں کی مد میں وصولیاں 182 ارب روپے ہیں جو 200 ارب روپے تک جا سکتی ہیں۔ بجٹ کا 58 فیصد حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ 55 فیصد حصہ تعلیم، صحت اور داخلہ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی پی کی مد میں وفاق نے 37 ارب روپے رکھے جبکہ صوبے نے اضافی 41 ارب روپے خرچ کیے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے وفاق نے 66 ارب روپے مختص کیے اور 56 ارب روپے کی ادائیگی کی۔ اے ڈی پی 70 ارب روپے سے بڑھ کر 228 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، مزمل اسلم۔

پشاور: شفیع جان نے کہا کہ پورے ملک کی نظریں خیبرپختونخوا کے بجٹ پر تھیں اور تمام معاشی ماہرین بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں۔ بجٹ کے حوالے سے قانونی پیچیدگیاں تھیں، تاہم قانونی ماہرین اور مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کو کوئی بھی گرانٹ بانی چیئرمین کی مشاورت کے بغیر نہیں دی جائے گی۔ سات ماہ سے بانی چیئرمین سے ملاقات نہیں ہو رہی۔ بانی چیئرمین کو اسپتال منتقل کیا جائے اور وزیراعلیٰ کی بانی چیئرمین سے ملاقات کرائی جائے۔ خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین کی حکومت ہے، شفیع جان۔