سائنس دانوں نے طاعون کے بارے میں اب تک کے قدیم ترین شواہد دریافت کر لیے ہیں، جس سے اس بیماری کی معلوم تاریخ تقریباً 200 سال مزید پیچھے جا کر 5500 سال قدیم ہوگئی ہے۔
یہ اہم دریافت اس مہلک بیماری کی ابتدا کے بارے میں ایک نیا اور بنیادی تناظر فراہم کرتی ہے، جس نے انسانی تہذیب پر گہرا اثر ڈالا ہے اور جس کی سب سے تباہ کن مثال 14 ویں صدی کی بلیک ڈیتھ ہے۔
اگرچہ طاعون آج کے دور میں نایاب اور اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے قابلِ علاج ہے، مگر یہ بیماری ہزاروں سال سے انسانوں کو متاثر کرتی آئی ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے ارتقائی جینیات کے ماہر ایسکے ولرسلیو کی قیادت میں کی گئی۔ جس میں سائبیریا کی جھیل بائیکل کے قریب موجود چار قدیم قبرستانوں سے ملنے والے انسانی باقیات کا تجزیہ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق تحقیق میں 18 قدیم شکاری و خانہ بدوش انسانوں کے دانتوں کا مطالعہ کیا گیا، جن میں طاعون پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے ڈی این اے کے آثار ملے۔
کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے یہ بات سامنے آئی کہ وہاں طاعون کی دو الگ الگ وبائیں موجود تھیں، جن میں سب سے قدیم کیسز تقریباً 5500 سال پہلے کے ہیں۔
ایسکے ولرسلیو نے کہا کہ اپنی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہمارے خیال میں طاعون کی تاریخ کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔