"میرے بجائے اپنی مقبولیت کی فکر کریں!" میلونی کا ٹرمپ کو کرارا جواب

اطالوی وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے بیانات کو اٹلی کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے امریکا کا اپنا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا


ویب ڈیسک June 21, 2026

واشنگٹن/روم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کے درمیان سفارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں، جس کے بعد امریکا اور اٹلی کے تعلقات میں کشیدگی کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ حالیہ جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران جورجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے بار بار درخواست کی تھی اور انہوں نے صرف ہمدردی کے باعث اس کی اجازت دی۔

ٹرمپ کے اس بیان پر اطالوی وزیر اعظم نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔ میلونی نے کہا کہ ایسی باتیں حقیقت کے منافی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میلونی نے متعدد مرتبہ تصویر کے لیے درخواست کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی حمایت نہیں کی اور اب امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کامیابی کے بعد میلونی دوبارہ دوستی قائم کرنا چاہتی ہیں تاکہ اندرونِ ملک اپنی سیاسی مقبولیت میں اضافہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اٹلی نے ایران تنازع کے دوران امریکی فوج کو بعض فوجی سہولیات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

دوسری جانب جورجیا میلونی نے انسٹاگرام پر جاری اپنے سخت بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی مسلسل اور بلا اشتعال تنقید بے معنی اور غیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مقبولیت کا انحصار امریکی صدر کے ساتھ تعلقات پر نہیں ہے۔

میلونی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "میری مقبولیت آپ کا مسئلہ نہیں، بہتر ہوگا کہ آپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔"

اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی ٹرمپ کے بیانات کو اٹلی کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے امریکا کا اپنا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے الفاظ نہ صرف وزیر اعظم بلکہ پورے اٹلی کی توہین ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع غیر معمولی ہے کیونکہ جورجیا میلونی کو ماضی میں یورپ کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا جو ٹرمپ کے نسبتاً قریب سمجھے جاتے تھے۔ تاہم حالیہ اختلافات نے دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں واضح دراڑ پیدا کر دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، یوکرین جنگ اور نیٹو جیسے اہم عالمی معاملات پر پالیسی اختلافات امریکا اور اٹلی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بڑی وجوہات بن سکتے ہیں۔