واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے باعث جلد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا کہ کیئر اسٹارمر برطانیہ کے وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے والے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی تفصیلی ثبوت یا سرکاری معلومات فراہم نہیں کیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ کیئر اسٹارمر دو اہم شعبوں، امیگریشن اور توانائی کی پالیسیوں میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر شمالی سمندر میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کے استعمال سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ برطانوی حکومت ان وسائل سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وہ کیئر اسٹارمر کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی سیاسی حلقوں میں بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستقبل کے حوالے سے چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ بعض برطانوی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم پیر کے روز اپنے عہدے سے متعلق اہم اعلان کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر لیبر پارٹی کی قیادت کی منتقلی کے لیے ایک روڈ میپ بھی پیش کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے بعض اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے کیئر اسٹارمر پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کریں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سیاسی پیش رفت اور پارٹی کے اندرونی اختلافات نے اس دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق لیبر پارٹی کے اندر اینڈی برنہم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی وزیراعظم کے لیے ایک چیلنج بن گئی ہے۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پارٹی کے متعدد اراکین مستقبل میں قیادت کی تبدیلی کے حق میں ہیں۔
تاہم برطانوی حکومت یا وزیراعظم آفس کی جانب سے اب تک استعفے کے حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔