پولینڈ اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

مزید اختلاف روس-یوکرین جنگ کے بعد لاکھوں یوکرینی مہاجرین کے پولینڈ آنے پر سامنے آیا


ویب ڈیسک June 22, 2026

اگرچہ پولینڈ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے سب سے بڑے حامیوں میں شامل رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کئی وجوہات کی بنا پر کشیدہ ہوئے ہیں۔

سب سے بڑا اختلاف یوکرینی قوم پرست تنظیم (یو پی اے) سے متعلق ہے۔ پولینڈ کا مؤقف ہے کہ یو پی اے نے 1943-45 کے دوران وولینیا میں تقریباً ایک لاکھ پولش شہریوں کے قتلِ عام میں کردار ادا کیا جسے وارسا "نسل کشی" قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب یوکرین میں یو پی اے کے بعض ارکان کو سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کرنے والے قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔

حال ہی میں یوکرینی صدر ولادمیر زیلنسکی کی جانب سے ایک فوجی یونٹ کو یو پی اے سے منسوب کرنے پر شدید ردعمل سامنے آیا جس کے بعد پولینڈ نے ان کے اعزازات واپس لینے جیسے اقدامات بھی کیے۔

پولینڈ طویل عرصے سے وولینیا میں مارے گئے پولش شہریوں کی باقیات کی کھدائی اور تدفین کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم پولینڈ میں بہت سے حلقے یوکرین پر تعاون میں تاخیر کا الزام لگاتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان ایک اور اختلاف روس-یوکرین جنگ کے بعد لاکھوں یوکرینی مہاجرین کے پولینڈ آنے پر سامنے آیا۔ ابتدا میں پولینڈ نے بھرپور مدد فراہم کی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کچھ حلقوں میں معاشی بوجھ اور سماجی دباؤ کے بارے میں خدشات بڑھنے لگے، جس سے یوکرین مخالف جذبات میں اضافہ ہوا۔

پولینڈ کے بعض سیاسی رہنما اور عوام کی اکثریت یوکرین کی یورپی یونین یا نیٹو میں شمولیت کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی ہے اور تحفظات کا اظہار کرتی ہے جس کی وجہ سے یوکرین کیخلاف پولینڈ میں نفرت  کا عنصر پایا جاتا ہے۔