’فٹبال میدان سے جنگی محاذ تک ہم قوم کی عزت کا دفاع کر رہے ہیں‘، عراقچی کا جذباتی پیغام

ایرانی حکام اس واقعے کو جنگ کے دوران پیش آنے والے سب سے المناک واقعات میں شمار کرتے ہیں


ویب ڈیسک June 22, 2026

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک جذباتی پیغام میں کہا ہے کہ چاہے فٹبال کا میدان ہو، سفارتی مذاکرات ہوں یا جنگ کا محاذ، ایرانی عوام کی عزت، وقار اور قومی خودمختاری کا دفاع ہر محاذ پر جاری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے میں جاں بحق ہونے والی طالبات کی تصاویر کو فٹبال ورلڈ کپ کے مناظر کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کے ذریعے انہوں نے قومی اتحاد اور مزاحمت کا پیغام دیا۔

عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’فٹبال کے میدان سے لے کر مذاکرات کی میز اور جنگ کے محاذ تک، ایک ایرانی کے طور پر ہمارا ہر قدم ہمارے پیارے عوام کی عزت اور وقار کے دفاع کی جدوجہد کا حصہ ہے۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ثالثی کرنے والے ممالک ان مذاکرات میں پیش رفت کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔

دوسری جانب فیفا ورلڈ کپ کے ایک اہم میچ میں ایران اور بیلجیئم کے درمیان مقابلہ برابر رہا، جسے ایرانی میڈیا نے قومی حوصلے اور استقامت کی علامت قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو مناب شہر میں واقع شجرہ طیبہ گرلز اسکول پر ہونے والے میزائل حملے میں تقریباً 160 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں اکثریت طالبات اور اساتذہ کی تھی۔ یہ حملہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے دن کیا گیا تھا۔

ایرانی حکام اس واقعے کو جنگ کے دوران پیش آنے والے سب سے المناک واقعات میں شمار کرتے ہیں اور اسے عالمی سطح پر اجاگر کرتے رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراقچی کا حالیہ بیان ایرانی قیادت کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے عوامی جذبات، سفارتی سرگرمیوں اور قومی بیانیے کو ایک دوسرے سے جوڑا جا رہا ہے جبکہ جاری مذاکرات کے تناظر میں قومی اتحاد کا پیغام بھی دیا جا رہا ہے۔