کوئی اور ایپسٹین کہیں بیٹھا وہی کچھ کر رہا ہو گا

پینٹاگون اور انٹیلی جینس ایجنسیوں کی یہ مشترکہ کانفیڈنشل رپورٹ لگ بھگ تین ہفتے پہلے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی انچارج تلسی گیبارڈ کی میز پر پہنچی۔


وسعت اللہ خان June 23, 2026

اسرائیل سے امریکا کی محبت کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چالیس روزہ لڑائی میں اسرائیل نے ایرانی میزائل روکنے کے لیے ایک سو نوے ایرو اور ڈیوڈ سلنگ انٹرسیپٹرز استعمال کیے جب کہ امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے دو سو سے زائد تھڈ میزائل جھونک دئیے یعنی اپنے تھڈ زخیرے کا پچاس فیصد۔

پھر بھی اسرائیل کی شکر گذاری کا یہ عالم ہے کہ جو نیتن یاہو کل تک جھنڈا اٹھائے گھوم رہا تھا کہ اسرائیل کو آج تک ٹرمپ سے زیادہ محسن امریکی صدر نصیب نہیں ہوا۔اسی نیتن یاہو کے ساتھی اور اسرائیلی میڈیا اب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جامع امن سمجھوتے کی کوششوں پر امریکا کی ’’ دھوکہ بازی ‘‘ کو یہود دشمنی کے ترازو میں تول رہے ہیں۔

تاہم ایک اسرائیلی مبصر کے بقول ’’ ہم نے تو اوباما کا ایران امریکا امن سمجھوتہ اگلے امریکی صدر (ٹرمپ ِ) کے ہاتھوں دو ہزار اٹھارہ میں پھاڑ کے پھنکوا دیا تو موجودہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کی کیا اوقات ہے۔یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکے ، اس کے لیے اسرائیل ایڑی چوٹی کا زور لگا دے گا ‘‘۔

ایسے وقت جب امریکی رائے عامہ اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف پہلی بار اتنا کھل کے بول رہی ہے ، امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اسرائیل نواز قلعہ اب بھی خاصا مضبوط ہے۔ صدر ٹرمپ بھلے نیتن یاہو کو جتنی بھی گالیاں دیں جب تک امریکی کانگریس اسرائیل کے ساتھ ہے کوئی مائی کا لال بال بیکا نہیں کر سکتا۔

امریکی کانگریس اسرائیل کی محبت میں یوں بھی غرق ہے کہ ریپبلیکنز ہوں کہ ڈیموکریٹس۔ بیشتر کی انتخابی کامیابی امریکن اسرائیل ایپکس کمیٹی ( ایپک ) کی طاقت اور ارب پتی صیہون نواز امریکی سرمایہ داروں کے چندے کی مرہونِ منت ہے۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کو سالانہ کس قدر فوجی امداد دیتا ہے۔مگر یہ امداد کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔ یہ علامتی منظوری بھی اسرائیل اور اس کے امریکی دوستوں کو اس قدر کھل رہی ہے کہ اس ماہ کے شروع میں نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ ( این ڈی ڈی اے ) میں ایک ترمیم ایوانِ زیریں کی دفاعی کمیٹی نے سادہ اکثریت سے منظور کر لی۔اگلے ماہ اسے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں باضابطہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس ترمیم کے نتیجے میں پینٹاگون اور اسرائیلی فوج باضابطہ طور پر یک جان دو قالب ہو جائیں گے۔اسرائیل اور امریکا کی دفاعی صنعت کے درمیان غیر مشروط تعاون ہو گا۔عسکری اہمیت کی ریسرچ ، ہتھیاروں کی تیاری ، فوجی مقاصد کے لیے اے آئی کے استعمال ، کاؤنٹر ڈرونز ٹیکنالوجی کی ترقی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں بلا روک ٹوک تعاون سے من و تو کا فرق مٹ جائے گا۔یعنی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی ہو گی۔یوں اسرائیل سے حساس شعبوں میں باہمی تعاون و آلات کی فراہمی کے لیے کانگریس کی سالانہ رسمی منظوری کا تکلف بھی ختم ہو جائے گا۔بھلے آیندہ وائٹ ہاؤس میں کوئی بھی صدر بیٹھے اور کانگریس میں کوئی بھی جماعت اکثریت میں ہو۔

پینٹاگون اس مجوزہ ترمیم سے خوش نہیں کیونکہ اس کے بعد اسرائیل کو امریکا کے دفاعی رازوں کی جاسوسی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔کم و بیش تمام خفیہ فائلیں قانوناً اسرائیل کی رسائی میں ہوں گی۔چنانچہ یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ میں باضابطہ ترمیم کی مجوزہ ووٹنگ سے چند دن پہلے پینٹاگون اور اٹھارہ دیگر انٹیلی جینس ایجنسیاں متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچیں کہ حساس دفاعی مواد تک رسائی کے لیے موساد اور شن بیت کی جاسوسی کوششیں انتہائی سرخ لیول تک پہنچ گئی ہیں۔یعنی اب یہ کوششیں امریکی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

پینٹاگون اور انٹیلی جینس ایجنسیوں کی یہ مشترکہ کانفیڈنشل رپورٹ لگ بھگ تین ہفتے پہلے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی انچارج تلسی گیبارڈ کی میز پر پہنچی۔اس کے تین چار روز بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ تلسی کو ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہی سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ تلسی نے اپنے استعفی میں لکھا کہ اب میں کچھ وقت ’’ گھر بار اور بچوں ‘‘ کو دینا چاہتی ہیں۔

امریکی میڈیا نے اسرائیلی جاسوسی کی اس تازہ رپورٹ کا ایک دن تو اخبارات اور نشریات میں ذکر کیا۔اس کے بعد سے اب تک مکمل سناٹا ہے ۔

عملاً اسرائیلیوں پر امریکی حکام کی بد اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ اسرائیلی دفاعی و انٹیلی جینس حکام امریکی ہم منصبوں کے لیے جو ’’ بے ضرر سے تحائف ‘‘ لاتے ہیں انھیں فوراً ضایع کر دیا جاتا ہے۔کیونکہ اکثر ’’ سن گن کے آلات ‘‘ سے آلودہ ہوتے ہیں۔امریکی اہلکار جب اسرائیل جاتے ہیں تو رابطے کے لیے خصوصی فون استعمال کرتے ہیں تاکہ دوسرا ان کی گفتگو نہ سن سکے۔مگر امریکی یہ بھی جانتے ہیں کہ اسرائیل الیکٹرونک نگرانی کی ٹیکنالوجی کے شعبے کا عالمی امام ہے۔

باوجودیکہ دونوں ملکوں کے درمیان انیس سو اکیاون سے سمجھوتہ ہے کہ ایک دوسرے کی جاسوسی نہیں کریں گے۔پھر بھی اگر کوئی اسرائیلی جاسوس امریکا میں رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تو اسے جلد ہی خبر سمیت ادھر ادھر کر دیا جاتا ہے۔لیکن جب بھانڈا بیچ خبری چوراہے میں پھوٹ جائے تو پھر قانون بھی بادلِ نخواستہ حرکت میں آتا ہے۔

مثلاً دو ہزار چھ میں پینٹاگون کے ایک اعلی اہلکار لارنس فرنکلن کو ایران سے متعلق خفیہ معلومات امریکن اسرائیل پبلک افئرز کمیٹی ( ایپک ) کے دو ارکان کے حوالے کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور انھیں تیرہ برس کی جیل ہو گئی۔مگر پھر کوئی غیبی ہاتھ حرکت میں آیا اور فرنکلن کی سزا تیرہ برس سے اچانک کم ہو کر دس ماہ قید اور سو گھنٹے کی کمیونٹی سروس تک رہ گئی۔ جن دو افراد کو فرنکلن صاحب یہ راز فراہم کر رہے تھے۔انھیں ایپک نے نوکری سے نکال دیا۔تاہم کسی سرکاری تفتیشی کمیٹی یا عدالت نے ان دونوں کو کبھی بھی بطور گواہ طلب نہیں کیا۔

جوناتھن پولارڈ کا نام تو آپ نے شائد سنا ہی ہو گا۔انیس سو اسی کی دہائی میں پولارڈ صاحب کی جانب سے سی آئی اے میں نوکری کی درخواست بائیو ڈیٹا میں جھوٹ شامل کرنے اور منشیات کا عادی ہونے کے سبب مسترد کر دی گئی۔دو برس بعد جوناتھن پولارڈ کو امریکی بحریہ میں نوکری مل گئی اور جنوبی افریقہ کو حساس بحری معلومات فراہم کرنے کے الزام کے باوجود ان کی نوکری برقرار رہی۔اس کے بعد جوناتھن پولارڈ نے اپنی منگنی کے لیے ہیرے کی ایک انگوٹھی اور ڈیڑھ ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض موساد کو حساس معلومات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ایک دن وہ پکڑے گئے اور جرم کی سنگینی دیکھتے ہوئے عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی۔

کہا جاتا ہے کہ جوناتھن پولارڈ اس قدر قیمتی اثاثہ تھا کہ اس کی جلد رہائی کے لیے اسرائیل نے صدر بل کلنٹن کو مونیکا لیونسکی افیر میں بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی۔بہرحال دو ہزار چھ میں پولارڈ رہا ہو کر سیدھے تل ابیب میں اترے جہاں نیتن یاہو نے ذاتی طور پر پولارڈ کا بطور قومی ہیرو استقبال کیا۔آج کل جوناتھن پولارڈ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کے لیے امیدوار ہے۔

اگر جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک برقرار رہتا اور اسے جیل میں خودکشی نہ کرنا پڑتی تو آج بھی وائٹ ہاؤس ، محکمہ خارجہ ، پینٹاگون اور کانگریس کے کمروں میں موساد اور شن بیت کو خفیہ آلات نصب کرنے یا اندر کے کسی اہلکار کو خریدنے کی ضرورت نہ پڑتی۔کس شعبے کا کون سا ایسا وی وی آئی پی تھا جو ایپسٹین کی جیب میں نہ تھا۔مگر کیا فرق پڑتا ہے۔اس وقت بھی کوئی اور ایپسٹین کہیں بیٹھا یہی کچھ کر رہا ہوگا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)