ایچ ای سی نے این ایس سی ٹی کی بنیاد پر 44 جامعات میں کمپیوٹر سائنس کے داخلے روک دیے

ان 44 جامعات کی باقاعدہ فہرست بھی جاری کردی جن میں پبلک و پرائیویٹ دونوں سیکٹر کی یونیورسٹیز شامل ہیں


صفدر رضوی June 22, 2026

اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان نے حال ہی میں کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کے منعقدہ نیشنل اسکلز کمپٹینسی ٹیسٹ (NSCT) 2026 کے نتائج کی بنیاد پر پورے ملک کی 44 جامعات کو کمپیوٹر سائنس میں داخلوں سے روک دیا ہے ان 44 جامعات کی باقاعدہ فہرست بھی جاری کردی جن میں پبلک و پرائیویٹ دونوں سیکٹر کی یونیورسٹیز شامل ہیں ۔

کراچی کی ایک سرکاری جامعہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری سمیت کل 4 جامعات کو داخلوں سے روکا گیا ہے جن میں ایمان انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ اینڈسائنس،  الماء یونیورسٹی اور ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ شامل ہیں۔

 اسی طرح اندرون سندھ کی جامعات میں بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاڑکانو، سندھ زرعی یونیورسٹی،  شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ سمیت دیگر شامل ہیں۔

 اس حوالے سے ایک خط ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد کی جانب سے ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز کو لکھا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی سطح کے اہم شراکت داروں کے تعاون سے نیشنل اسکلز کمپٹینسی ٹیسٹ (NSCT) 2026 لیا گیا تھا اس قومی جائزے میں 199 جامعات کے 33 ہزار سے زائد طلبہ نے شرکت کی تھیں۔

یہ جائزہ آئی ٹی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، فارغ التحصیل طلبہ کی ملازمت کے مواقع بڑھانے، ادارہ جاتی جوابدہی کو فروغ دینے اور اعلیٰ تعلیم کے نتائج کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں اہم ثابت ہوا ہے  اور ابھرتے ہوئے شعبوں مصنوعی ذہانت ، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں مہارت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔

علاوہ ازیں جن 44 یونیورسٹیوں/ڈگری ایوارڈنگ اداروں میں کمپیوٹنگ پروگرامز کے داخلے عارضی طور پر معطل کیے گئے ہیں ان میں الحمد اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کیمپس ،سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور،عبدالولی خان یونیورسٹی مردان ، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ، ویمن یونیورسٹی مردان، دی ویمن یونیورسٹی ملتان، یونیورسٹی آف صوابی، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان،   یونیورسٹی آف بلتستان، اسکردو، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، خضدار یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ ، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک سمیت دیگر شامل ہیں۔