آبنائے ہرمز ایران کے انتظام میں رہے گی، جنگ کے بعد حالات پہلے جیسے نہیں ہوں گے، تہران

ایران اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور اقتصادی حقوق کے تحفظ کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھے گا، قالیباف


ویب ڈیسک June 23, 2026

تہران: ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب ایران کے انتظام و نگرانی میں رہے گی اور جنگ سے پہلے کی صورتحال دوبارہ بحال نہیں ہوگی۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق محمد باقر قالیباف نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات سے واپسی پر کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی قوانین کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے زیر انتظام رہے گی اور اس حوالے سے ایران کا مؤقف واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مختلف معاملات پر مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ قالیباف کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات میں کئی اہم موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران اچھی کامیابیاں حاصل ہوئیں، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور، لبنان کی صورتحال، ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ممکنہ رعایتیں اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔

ایرانی چیف مذاکرات کار کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران فریقین نے خطے میں استحکام، معاشی تعاون اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ان کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور اقتصادی حقوق کے تحفظ کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھے گا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست کی گہری نظر رہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوتی ہے تو ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، تیل کی برآمدات میں اضافہ اور خطے میں کشیدگی میں کمی جیسے اہم نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔