کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت کام کرنے والی اخلاقی پولیس کی جانب سے ایران سے متصل سرحدی علاقے میں متعدد امدادی کارکنوں کو مبینہ طور پر داڑھی کی مقررہ لمبائی پوری نہ ہونے پر حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ہفتے کے روز ایران اور افغانستان کے درمیان واقع اسلام قلعہ بارڈر کراسنگ کے قریب پیش آیا، جہاں اقوام متحدہ سے تعاون کرنے والی مختلف امدادی تنظیموں کے تقریباً 20 افغان مرد ملازمین کام کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے ان کارکنوں کو اس بنیاد پر حراست میں لیا کہ ان کی داڑھیاں طالبان حکومت کے مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھیں۔ طالبان حکام اس سے قبل یہ ہدایت جاری کر چکے ہیں کہ مردوں کی داڑھی کم از کم ایک مٹھی کے برابر ہونی چاہیے۔
امدادی اداروں کے اندرونی ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں وہ کارکن بھی شامل تھے جو اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر سرحدی استقبالی مراکز میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق کچھ کارکنوں کو اسی روز رہا کر دیا گیا، جبکہ باقی افراد کو اگلے دن آزادی مل گئی۔ واقعے کے بعد امدادی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ یہ کارکن سرحدی علاقوں میں واپس آنے والے افغان مہاجرین اور ضرورت مند افراد کو خدمات فراہم کر رہے تھے۔
دوسری جانب صوبہ ہرات میں اخلاقی پولیس کے مقامی عہدیدار ضیاء الدین طیب نے امدادی کارکنوں کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے ملازم کو گرفتار یا قید نہیں کیا گیا۔
تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے پانچ ملازمین کو مختصر داڑھی رکھنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔
ایک اور امدادی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اخلاقی پولیس نے اسلام قلعہ بارڈر پر موجود ایک مرکز میں کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 20 افراد کو گرفتار کیا اور انہیں ضلع کوہسان منتقل کیا گیا۔
طالبان حکومت کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، جبکہ انسانی حقوق اور امدادی شعبے سے وابستہ حلقے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔