قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل 2026 کی منظوری کیلئے ترمیم شدہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی جب کہ بل میں متعدد ترامیم تجویز کر دی گئیں اور ترامیم کے ساتھ منظور کرنے کی سفارش بھی کر دی۔
سفارشات میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دیگئی ہے، جبکہ یوٹیوب سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی ڈالر آمدن جب بینکوں کے ذریعے پاکستان منتقل ہوگی تو اس پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔
کمیٹی نے غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر 5 فیصد ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے اور ایکسپورٹرز پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
اس کے علاوہ پی آئی اے کے جہازوں کے لیے پرزہ جات کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ، تجارتی جہازوں اور ٹینکرز کی مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس استثنیٰ، جبکہ چار سال سے قبل لائف انشورنس پالیسی سے منافع حاصل کرنے والوں پر 4 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز بھی سفارشات کا حصہ ہیں۔
قائمہ کمیٹی نے پیٹرولیم لیوی سے متعلق مجوزہ شق ختم کرنے کی سفارش کر دی، درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی۔
موبائل فون ٹیکس مالی سال کے اختتام سے پہلے مکمل ادا کرنا لازمی ہوگا، اسٹیل سیکٹر کیلئے بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کی سفارش کر دی گئی۔
ڈیجیٹل طور پر مربوط اسٹیل یونٹس کیلئے رعایتی ٹیکس شرح کا راستہ ہموار کر دیا گیا۔
پاکستان میں رجسٹرڈ ایئرلائنز کیلئے طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز شامل ہے،
20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والوں کو فائنل ٹیکس نظام سے نکلنے کا اختیار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز برقرار ہے، اسٹیٹ بینک کو بینکاری معلومات کا مرکزی ورچوئل ڈیٹا ذخیرہ قائم کرنے کا اختیار دینے کی سفارش ہے۔
پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فنڈز کیلئے ٹیکس چھوٹ کی بعض شرائط نرم کرنے کی تجویز ہے، برآمدات کل کاروبار کے 80 فیصد سے زائد ہونے پر مخصوص ٹیکس سے استثنا کی سفارش ہے۔
مقامی طور پر تیار موبائل فونز سمیت متعدد شعبوں کیلئے کم از کم ٹیکس شرح 0.5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں پر مجوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کی سفارش بھی سامنے آگئی، 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر زیرو فیصد ڈیوٹی تجویز کی گئی۔
قائمہ کمیٹی خزانہ نے بجٹ تجاویز میں متعدد ترامیم کی منظوری دے دی، درآمدی لگژری گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح مزید بڑھانے کی سفارش کی گئی جب کہ 2000 سے 3000 سی سی درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد ڈیوٹی تجویز کی گئی ہے۔
3000 سی سی سے زائد درآمدی گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی، اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی۔
ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں کیلئے سالانہ ٹوکن ٹیکس 20 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش، بڑی انجن صلاحیت والی گاڑیوں پر ٹیکس انوائس ویلیو سے منسلک کرنے کی تجویز سامنے آئی۔
کسٹمز قوانین میں ترامیم، ضبط شدہ سامان کی نگرانی مزید سخت کرنے کی سفارش کی گئی جب کہ اسمگل شدہ سامان کی نقل و حرکت کی تعریف کو مزید وسیع کرنے کی تجویز دی گئی۔
کسٹمز مقدمات میں فیس لیس سماعت اور ورچوئل کارروائی کا راستہ ہموار ہوگیا جب کہ کسٹمز نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات، فیس لیس ایڈجوڈیکیشن متعارف کرانے کی سفارش کی گئی۔
ضبط شدہ سامان میں ردوبدل کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں تجویز کی گئی، کسٹمز گوداموں میں چھیڑ چھاڑ پر پانچ سال قید تک سزا کی سفارش کی گئی۔
ٹیکس نظام میں ڈیجیٹل انوائسنگ کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز دی گئی جب کہ ایف بی آر کو الیکٹرانک انوائسنگ نظام مزید وسعت دینے کا اختیار ملنے کا امکان ہے۔
بڑے ریٹیلرز کیلئے ڈیجیٹل انضمام اور مانیٹرنگ کا دائرہ کار بڑھانے کی سفارش کی گئی جب کہ 20 کروڑ روپے سے زائد کاروبار کرنے والے ریٹیلرز پر نئی شرائط لاگو کرنے کی تجویز ہے۔
اسٹیل صنعت کیلئے بجلی کے استعمال کی بنیاد پر ٹیکس وصولی کا نظام متعارف کرانے کی سفارش کی گئی،
ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم مزید سخت بنانے کی تجویز دی گئی،
جعلی ٹیکس انوائسز جاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش۔
فرضی انوائسز بنانے والوں پر انوائس مالیت کے برابر جرمانہ عائد ہو سکے گا، غیر مطابقت رکھنے والے ان پٹ ٹیکس کلیمز پر اضافی جرمانے کی تجویز ہے، ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر کاروباری مراکز سیل کرنے کا اختیار بڑھانے کی سفارش کی گئی، غیر رجسٹرڈ یا غیر مربوط کاروباروں پر 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
فیس لیس آڈٹ اور ای-ہیرنگ کے نظام کو قانونی تحفظ دینے کی سفارش کی گئی، ٹیکس دہندگان اور افسران کے درمیان براہ راست رابطہ کم کرنے کیلئے نئی تجاویز سامنے آئیں، قومی فیس لیس سینٹر کے قیام کا راستہ ہموار، ٹیکس نظام مزید ڈیجیٹل ہوگا۔
ایف بی آر کو الگورتھم کی بنیاد پر کیسز نمٹانے کا اختیار دینے کی سفارش کی گئی، ضبط شدہ اشیا کی ای نیلامی کی راہ ہموار کرنے کی تجویز ہے، قائمہ کمیٹی خزانہ نے فنانس بل 2026 ترامیم کے ساتھ منظور کرنے کی سفارش کر دی۔