لندن: برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سابق سربراہ اور رکن پارلیمان جیریمی کوربن نے ایک بار پھر ایسے بل کو پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے جس میں غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں برطانیہ کے ممکنہ کردار کی آزاد اور عوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو یہ جانچنا ہوگا کہ آیا اس نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں کسی بھی سطح پر معاونت فراہم کی یا نہیں۔ ان کے مطابق اس تحقیق میں ہتھیاروں کی فراہمی، نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں اور برطانوی فضائی اڈوں کے ممکنہ استعمال سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
سابق لیبر رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ کیئر اسٹارمر وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ چکے ہیں، لیکن غزہ جنگ کے دوران ان کی حکومت کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ کوربن نے کہا کہ ان کے نزدیک اس معاملے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ عوام حقائق سے آگاہ ہو سکیں۔
جیریمی کوربن گزشتہ برس بھی اسی نوعیت کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر چکے تھے تاہم اس وقت کی حکومت نے بل کی دوسری ریڈنگ کے دوران اس کی مخالفت کی تھی اور اسے آگے بڑھنے نہیں دیا گیا تھا۔
بل مسترد ہونے کے بعد کوربن نے غزہ کے حوالے سے دو روزہ عوامی ٹریبونل بھی منعقد کیا تھا، جس میں فلسطینی شہریوں، طبی ماہرین، امدادی کارکنوں اور قانونی ماہرین نے اپنے بیانات اور شواہد پیش کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گواہیوں کی روشنی میں آزادانہ تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جیریمی کوربن کا یہ نیا اقدام برطانیہ میں غزہ جنگ اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر جاری بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب برطانوی سیاست میں قیادت کی تبدیلی اور خارجہ پالیسی پر نئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔