بھارت میں جنم لینے والے اور برطانیہ میں مقیم معروف فلم ساز سائرس پٹیل کے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات سوشل میڈیا پر تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
حالیہ دنوں ہالی ووڈ سے وابستہ شخصیات کے مذہب تبدیل کرنے کی خبروں کے بعد فلمی دنیا کی ایک اور نمایاں شخصیت کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ خبر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک دستاویز وائرل ہو رہی ہے، جسے اسلام قبول کرنے کا سرکاری سرٹیفکیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ لندن کی سینٹرل مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جبکہ اسے آن لائن شیئر کرنے والوں میں سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آل الشیخ بھی شامل ہیں۔
ترکی آل الشیخ کے مطابق سائرس پٹیل نے سعودی عرب میں ایک فلمی منصوبے پر کام کے دوران وہاں کچھ عرصہ گزارا، جس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اس دعوے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر خاصی دلچسپی کا باعث بن گیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس سے قبل بھی سعودی عرب میں قیام کے دوران ہالی ووڈ اداکار جیانکارلو اسپوزیٹو کے اسلام قبول کرنے سے متعلق رپورٹس سامنے آ چکی تھیں۔
سائرس پٹیل ممبئی میں پیدا ہوئے اور 1999 سے لندن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی فلمی صنعت میں بطور لائن پروڈیوسر اور ایونٹ پروڈکشن مینیجر اپنی شناخت بنائی اور متعدد بڑے فلمی منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔
ان کے نمایاں پراجیکٹس میں ’دی منسٹری آف اَن جینٹلمینلی وارفیئر‘‘ اور ’’قندھار‘‘ شامل ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی فلمی صنعت میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ سائرس پٹیل کے اسلام قبول کرنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں نے اب فلمی اور سوشل میڈیا حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حوالے سے ان کی جانب سے کوئی باضابطہ عوامی بیان سامنے نہیں آیا۔