اسلام آباد:
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ٹیکنیکل مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہوں گے اور پاکستان کا وفد بھی ان مذاکرات میں شریک ہوگا۔
ترجمان کے مطابق فریقین کے مابین مذاکراتی عمل جاری رہنا ہی ایک مثبت نتیجہ ہے اور پاکستان اس پورے عمل میں مذاکرات اور ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آیا، جس نے وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
ترجمان کے مطابق ایرانی صدر کے دورے کے دوران مختصر طور پر تجارتی تعلقات پر بھی بات ہوئی، جبکہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاک ایران معاشی اور تجارتی تعاون کے فروغ کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ گیس پائپ لائن کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ انہیں اس کی تفصیلات کا علم نہیں، تاہم تمام امور پر بات چیت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ برگن سٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت ہوئی جس میں پاکستان اور قطر نے بطور ثالث شرکت کی۔ مذاکرات میں متعدد نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں مزید پیش رفت کے لیے فریقین سے رابطے میں ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بطور ثالث متعدد ممالک کی جانب سے ملنے والی تعریف اور حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ عالمی برادری کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے اور پاکستانی میڈیا نے بھی اس پورے عمل میں ذمہ داری، پیشہ ورانہ رویے اور اعتماد سازی کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 18 جون کو پاکستان نے دیگر ممالک کے ساتھ اسرائیلی حملوں کی مذمت میں مشترکہ بیان جاری کیا، جبکہ رواں ہفتے پاکستان نے 30 ایرانی شہریوں کی برطانوی اور امریکی حراست سے وطن واپسی میں بھی مدد فراہم کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور ڈنمارک کی جانب سے حمایت یافتہ قرارداد 2223 منظور کر لی گئی ہے، جسے 153 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ قرارداد کے مطابق اقوام متحدہ کے امن دستوں پر کسی بھی حملے کو ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔
صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پاکستانی جہاز اور عملے کو یرغمال بنانے کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی سفارت خانے کی تکنیکی ٹیم نے جبوتی کا دورہ کیا، جبکہ حکومت نے اس معاملے پر انٹر منسٹریل اجلاس بھی منعقد کیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان مقامی این جی اوز، انصار برنی سمیت متعدد اداروں سے بھی رابطے میں ہے تاکہ یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔