بیجنگ: چین نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی عبوری مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔ چینی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد اور اس کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت نے ایک ’مثبت پیغام‘ دیا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ منصفانہ اور متوازن مؤقف اختیار کرتا ہے اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کا سبب بنیں۔
گو جیاکون نے واضح کیا کہ بیجنگ ایران کی خودمختاری، قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق چین اس بات کا بھی حامی ہے کہ ایران اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک اور دیگر علاقائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنائے۔
چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتکاری، باہمی احترام اور علاقائی تعاون ناگزیر ہیں۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات کو مذاکرات اور سیاسی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیجنگ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران کے ساتھ اپنے قریبی سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے پر عالمی طاقتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں نئی سفارتی پیش رفت کے امکانات پر بحث جاری ہے۔