پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین کے درمیان شدید بحث ہوئی جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں۔
تفصیلات کے مطابق اسمبلی اجلاس کے دوران اراکین پنجاب اسمبلی نے فلور آف دی ہاؤس ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں۔
دھمکیوں کی ابتدا پہلے اپوزیشن رکن کرنل شعیب امیر نے کی جوابی دھمکی وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمان نے دی۔
اپوزیشن رکن نے کہا کہ ’میں جس دن حکومت میں آیا ان کی نسوں سے ویسے ہی خون نکالوں گا جیسے ہمارے ورکرز کی ناسوں سے نکالا گیا، آپ کی گولیاں اس طرح سے نہ چلیں جس طرح ہمارے ورکرز کو شہید کیا گیا ہے سڑکوں پر اپ کو خون بھی اسی طرح نہ بہا تو میں اسمبلی سے استعفی دے کر چلا جاؤں گا‘۔
اس پر حکومتی رکن مجتبیٰ شجاع الرحمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جن کو شوق ہے میری نسوں سے خون نکالنے کا، کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا، اس دفع آ گئے ہیں فیض حمید کے فیض سے فیض یاب ہو کر، اگلی دفع نا بھی آئے تو ان کی نسوں سے خون نکال دوں گا، مجھے جانتے نہیں ہیں۔