امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ کمی کے باوجود اس کا فائدہ عوام کو نہ پہنچانے پر تیل کمپنیوں اور پمپ مالکان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی بڑی تیل کمپنیوں پر پیٹرول کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ برقرار رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے محکمہ انصاف کو فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود صارفین کو اس کا فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا۔
انھوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ خام تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں لیکن پٹرول پمپوں پر عوام سے اب بھی زیادہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔ بڑی تیل کمپنیاں خام تیل سستا خرید رہی ہیں۔
امریکی صدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ سستے داموں خام تیل لینے والی آئل کمپنیاں پیٹرول کی قیمتیں اسی تناسب سے کم نہیں کر رہیں۔ قیمتیں پتھر کی طرح نیچے گر رہی ہیں لیکن صارفین سے زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیٹرول پمپس پر عوام سے زیادہ قیمتیں وصول کرنے کو سراسر استحصال قرار دیتے ہوئے سخت قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا۔
انھوں نے امریکی محکمہ انصاف کو یہ معلوم کرنے کی ہدایت کی کہ آیا تیل کمپنیاں جان بوجھ کر صارفین سے اضافی منافع کما رہی ہیں یا نہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے کسی مخصوص کمپنی کا نام نہیں لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ ملنا چاہیے۔
اگر امریکی محکمہ انصاف کی تحقیقات میں تیل کمپنیوں کے خلاف شواہد ملتے ہیں تو انھیں بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ اس کے نتیجے میں امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی تیل و گیس صنعت کی نمائندہ تنظیم امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ نے ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں خام تیل کی قیمتوں کے ساتھ فوری طور پر تبدیل نہیں ہوتیں۔
تنظیم کی ترجمان بیتھنی ولیمز نے کہا کہ صنعت بھی صارفین کو ریلیف دینے اور توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام کی خواہاں ہے تاہم ایران جنگ کے اثرات اب بھی سپلائی، ریفائننگ اور ذخائر پر موجود ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں فوری کمی ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر دی تھی جس کے باعث تیل اور گیس کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہوئی اور خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔
جنگ کے دوران برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تاہم جنگ بندی اور امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کے بعد قیمتوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
آج برینٹ کروڈ 74 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گیا اگرچہ یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی تقریباً 70 ڈالر فی بیرل کی سطح سے زیادہ ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی کم ہو کر تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تک آ گئی لیکن یہ بھی جنگ سے پہلے کی تقریباً 60 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر ہے۔
امریکہ میں عام گریڈ کے پیٹرول کی اوسط قیمت حالیہ ہفتوں میں کم ہو کر تقریباً 3.93 ڈالر فی گیلن رہ گئی ہے تاہم یہ اپریل میں ریکارڈ کیے گئے 4 ڈالر فی گیلن سے صرف معمولی کم ہے اور جنگ سے پہلے کی قیمتوں کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
تیل کمپنیوں پر منافع خوی کا الزام عائد کرنے والے امریکی صدر تنہا نہیں، اس سے قبل برطانیہ میں بھی ایران جنگ کے آغاز کے بعد تیل کمپنیوں پر پیٹرول کی قیمتیں غیر منصفانہ طور پر بڑھانے کے الزامات لگائے گئے تھے۔
تاہم برطانوی مسابقتی ریگولیٹر نے اپنی تحقیقات میں کہا تھا کہ فروری اور مارچ کے دوران بڑے پیمانے پر ناجائز منافع خوری کے شواہد نہیں ملے اور پیٹرول فروخت کرنے والی کمپنیوں کے اوسط منافع میں بھی کوئی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔