شدید گرمی کی لہر آتے ہی گھروں، دفاتر، شاپنگ مالز اور گاڑیوں میں ایئر کنڈیشنر زندگی کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں۔
کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے بعد اے سی صرف وقتی آرام کا ذریعہ نہیں بلکہ ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی سے بچاؤ کی اہم ضرورت بھی بن جاتا ہے۔
طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایئر کنڈیشنر کا استعمال درست طریقے سے نہ کیا جائے تو یہی سہولت جسم کے لیے مختلف مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر لوگ اے سی سے ملنے والے فوری سکون پر توجہ دیتے ہیں، مگر اس کے طویل المدتی اثرات، درست درجہ حرارت، نمی کی سطح، جسم پر پڑنے والے دباؤ اور روزمرہ طرزِ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر کم ہی غور کرتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہیں جو انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق خود ایئر کنڈیشنر نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا غلط استعمال مسائل پیدا کرتا ہے۔
یعنی اگر درجہ حرارت بہت کم رکھا جائے، فلٹر گندے ہوں، کمرے کی ہوا کا تبادلہ نہ ہو یا انسان مسلسل کئی گھنٹے مصنوعی ٹھنڈک میں رہے تو لوگ مختلف جسمانی تبدیلیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
شدید گرمی میں اے سی کے اہم طبی فوائد
گرمی کی شدت میں ایئر کنڈیشنر کئی حوالوں سے انسانی جان بھی بچا سکتا ہے۔
انتہائی زیادہ درجہ حرارت جسم کا قدرتی نظام متاثر کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں ٹھنڈا ماحول جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
شدید گرمی میں دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ مناسب ٹھنڈا ماحول دل پر اضافی دباؤ کم کر سکتا ہے، خاص طور پر بزرگ افراد کے لیے۔
اگر سونے کے کمرے کا درجہ حرارت مناسب رکھا جائے تو نیند کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔ اچھی نیند ذہنی صحت، قوتِ مدافعت اور جسمانی بحالی کے لیے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
دفاتر میں مناسب ٹھنڈک ملازمین کی توجہ، ذہنی کارکردگی اور کام کرنے کی رفتار بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ شدید گرمی میں تھکن، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔
مسلسل اے سی میں رہنے کے طبی نقصانات
اگرچہ ایئر کنڈیشنر فائدہ مند ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال مختلف طبی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
اے سی کمرے کی نمی کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں جلد خشک، کھردری اور بعض افراد میں حساس بھی ہو سکتی ہے۔ ہونٹ پھٹنا، آنکھوں میں خشکی اور جلد میں کھچاؤ عام شکایات ہیں۔
اگر اے سی کے فلٹر وقت پر صاف نہ کیے جائیں تو ان میں گرد، پھپھوندی، جراثیم اور الرجی پیدا کرنے والے ذرات جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر الرجی، دمہ اور دیگر سانس کی بیماریوں کو بڑھا سکتے ہیں۔
بہت کم درجہ حرارت پر مسلسل رہنے سے بعض افراد میں سر درد، جسمانی تھکن اور توجہ میں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر جب وہ بار بار شدید گرمی اور انتہائی ٹھنڈے ماحول کے درمیان آتے جاتے ہوں۔
براہِ راست ٹھنڈی ہوا مسلسل جسم پر پڑنے سے گردن، کندھوں، کمر اور جوڑوں میں اکڑاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ پہلے سے درد میں مبتلا افراد میں یہ کیفیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
کمپیوٹر پر کام کرنے والے افراد اگر پورا دن اے سی والے دفتر میں گزاریں تو آنکھوں میں خشکی، جلن اور دھندلا پن محسوس ہو سکتا ہے۔
اے سی کا مسلسل استعمال
دفتر میں اکثر لوگ روزانہ 8 سے 10 گھنٹے مسلسل بند ماحول میں کام کرتے ہیں۔ اگر ہوا کی مناسب گردش نہ ہو، نمی بہت کم ہو اور درجہ حرارت غیر ضروری طور پر کم رکھا جائے تو ملازمین تھکن، سستی، سر درد اور آنکھوں کی خشکی کی شکایت کر سکتے ہیں۔
اسی لیے جدید دفاتر میں وینٹیلیشن، تازہ ہوا کی فراہمی اور اے سی کی باقاعدہ صفائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔
بہت سے لوگ گھر پہنچتے ہی اے سی کو 16 یا 18 ڈگری پر چلا دیتے ہیں تاکہ کمرہ جلدی ٹھنڈا ہو جائے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ طریقہ مناسب نہیں۔
گھر کے لیے 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت زیادہ آرام دہ اور توانائی کے لحاظ سے بھی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح کمرے میں کچھ دیر بعد تازہ ہوا کا داخل ہونا بھی ضروری ہے تاکہ آکسیجن کی سطح متوازن رہے۔
علاوہ ازیں شدید دھوپ سے واپس آنے کے بعد پسینے میں بھیگا ہوا جسم فوراً انتہائی ٹھنڈے ماحول میں آ جائے تو جسم کو اچانک درجہ حرارت کی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ چند منٹ نارمل ماحول میں گزار کر پانی پیا جائے، جسم کو قدرے ٹھنڈا ہونے دیا جائے، اس کے بعد اے سی والے کمرے میں داخل ہونا بہتر رہتا ہے۔
بچے اور بزرگ درجہ حرارت کی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ان کے لیے کمرے کا درجہ حرارت معتدل رکھنا، براہِ راست ٹھنڈی ہوا سے بچانا، مناسب پانی پلانا اور وقتاً فوقتاً کمرے کی ہوا تبدیل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
طرزِ زندگی میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں؟
صرف اے سی پر انحصار صحت مند زندگی کی ضمانت نہیں۔
ماہرین کے مطابق روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، ہلکی جسمانی سرگرمی جاری رکھنا، تازہ پھل اور سبزیاں استعمال کرنا، باہر نکلتے وقت دھوپ سے بچاؤ اختیار کرنا، گھر اور دفتر کے اے سی فلٹر باقاعدگی سے صاف کروانا اور ضرورت سے زیادہ ٹھنڈا ماحول نہ بنانا صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح کئی گھنٹے مسلسل بند کمرے میں رہنے کے بجائے وقفے وقفے سے تازہ ہوا میں چند منٹ گزارنا بھی جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔