اسرائیل، لبنان معاہدے پر حزب اللہ کا سخت ردعمل آگیا

حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اسے مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا


ویب ڈیسک June 27, 2026

امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے ہونے والے سہ فریقی معاہدے پر حزب اللہ نے سخت ردعمل دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  واشنگٹن میں معاہدے پر اسرائیل کے سفیر یخیئیل لیٹر اور لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض نے دستخط کیے۔

لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد ریاستی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور ملک کے تمام علاقوں پر لبنانی فوج کا اختیار بحال کرنا ہے،

تاہم دوسری جانب حزب اللہ نے معاہدے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو طاقت کے ذریعے غیر مسلح کرنے کی کوشش کی تو ملک ایک نئی خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔

حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اسے مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا اور وہ اپنے ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ جنوبی لبنان میں مرحلہ وار سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ معاہدے میں حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے اور ان کے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں امریکا ایک مشترکہ فوجی رابطہ گروپ تشکیل دینے کے علاوہ لبنان کے لیے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد بھی فراہم کرے گا۔