کسی بھی یکطرفہ اقدام سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

آئندہ 30 دن تک آبنائے ہرمز مکمل ایرانی کنٹرول میں رہے گی، عباس عراقچی



ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ اقدام سے خطے کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عراق کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ ہونے والی مفاہمت سے آگاہ کیا، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد عراقچی کا دورہ اہم ہے۔ عباس عراقچی کے ساتھ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عراقی تیل کی ترسیل رک گئی، جنگ جاری رہی تو پورا خطہ تباہی کی طرف جائے گا۔

اس موقع پر عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ میرا بغداد کا دورہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی خصوصی صورتحال کے تناظر میں ہے۔ نئی عراقی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ نئی عراقی حکومت کو مبارکباد پیش کی۔ تعاون اور حمایت پر عراق کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات عراقی ہم منصب کو بتائیں۔ رکاوٹیں ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آ جائے گی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آئندہ 30 دن تک آبنائے ہرمز مکمل ایرانی کنٹرول میں رہے گی، آبنائے ہرمز کی نگرانی اور انتظام صرف ایران کے پاس ہے، کسی بھی یکطرفہ اقدام سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔