بلوچستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق کراچی کے تاجر کی نماز جنازہ ادا

تاجر رہنما رضوان عرفان نے ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا


ویب ڈیسک June 28, 2026

کراچی:

بلوچستان کے علاقے دشت میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ کی نماز جنازہ طارق روڈ کی رحمانیہ مسجد میں ادا کر دی گئی، جس میں اہلخانہ، عزیز و اقارب، تاجر رہنماؤں اور تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

نماز جنازہ میں تاجر رہنما رضوان عرفان، کراچی موبائل ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام سمیت دیگر تاجر برادری کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ بعد ازاں مرحوم علی مرتضیٰ کی تدفین سوسائٹی قبرستان میں کی گئی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما رضوان عرفان نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور کھلی دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ علی مرتضیٰ پہلی مرتبہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ کوئٹہ گئے تھے، جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران علی مرتضیٰ کے سینے پر گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی، جبکہ ان کی اہلیہ بھی متعدد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیلڈ مارشل، بلوچستان حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

رضوان عرفان کا کہنا تھا کہ اب تک کسی حکومتی شخصیت نے متاثرہ خاندان سے رابطہ یا اظہارِ ہمدردی نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ ناصر حسین شاہ اور شرجیل انعام میمن کو بھی پیغام بھیجا گیا، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کا ایک تاجر دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے، سندھ حکومت کو متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

کراچی موبائل ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی مرتضیٰ کو دہشت گردوں نے شہید کیا، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل، وفاقی وزیر داخلہ اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔

منہاج گلفام کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھی پاکستان کا حصہ ہے، شہریوں کو ملک کے کسی بھی حصے میں بلاخوف سفر کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول کی میت اپنی مدد آپ کے تحت کراچی منتقل کی گئی، جبکہ ان کی اہلیہ کو چار سے پانچ گولیاں لگی ہیں اور وہ اب بھی اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

حملے میں بی ایل اے ملوث ہے  معاون خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسف زئی

معاون خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسف زئی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں کوئٹہ سے کراچی سفر کرنے والے ایک خاندان کو نشانہ بنایا گیا یہ خاندان کوئٹہ سے کراچی جا رہا تھا کہ راستہ بھٹک جانے یا مبینہ طور پر گوگل میپس کی غلط رہنمائی کے باعث دشت کے علاقے کھنڈ پہنچ گیا۔‏

انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان بی ایل اے کے دہشت گردوں نے خاندان کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خاندان کے سربراہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ خاتون شدید زخمی ہوئیں، جبکہ دو معصوم بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔‏یہ دہشت گرد معصوم پاکستانی شہریوں اور دیگر سافٹ ٹارگٹس کو جان بوجھ کر نشانہ بناتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس حملے میں بی ایل اے کے دہشت گرد ملوث تھے، ‏صوبائی حکومت نے فوری طور پر شہید کی میت اور زخمی خاتون کو کراچی منتقل کرنے کے انتظامات کیے، جہاں خاتون کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ہم ان دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پُرعزم ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار عناصر اپنے انجام تک پہنچ سکیں۔‏

انہوں ںے مزید کہا کہ میں ان تنظیموں سے بھی سوال کرنا چاہوں گا جو انسانی حقوق کے نام پر آواز بلند کرتی ہیں کیا یہ معصوم بچے اپنے والد کی محبت، شفقت اور سرپرستی کے حق دار نہیں تھے؟ اس سفاکانہ دہشت گرد حملے نے ان سے ان کے والد کا سایہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔

انہوں نے کہا کہ ‏دہشت گردوں  بی ایل اے کی سہولت کار ماہ رنگ لانگو کی سزا پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والے بتائیں یہ بچے ساری زندگی باپ کی شفقت سے محروم رہیں گے ان کا کیا قصور تھا؟