کراچی:
بلوچستان کے علاقے دشت میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ کی نماز جنازہ طارق روڈ کی رحمانیہ مسجد میں ادا کر دی گئی، جس میں اہلخانہ، عزیز و اقارب، تاجر رہنماؤں اور تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
نماز جنازہ میں تاجر رہنما رضوان عرفان، کراچی موبائل ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام سمیت دیگر تاجر برادری کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ بعد ازاں مرحوم علی مرتضیٰ کی تدفین سوسائٹی قبرستان میں کی گئی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما رضوان عرفان نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور کھلی دہشت گردی کا واقعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علی مرتضیٰ پہلی مرتبہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ کوئٹہ گئے تھے، جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران علی مرتضیٰ کے سینے پر گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی، جبکہ ان کی اہلیہ بھی متعدد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیلڈ مارشل، بلوچستان حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
رضوان عرفان کا کہنا تھا کہ اب تک کسی حکومتی شخصیت نے متاثرہ خاندان سے رابطہ یا اظہارِ ہمدردی نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ ناصر حسین شاہ اور شرجیل انعام میمن کو بھی پیغام بھیجا گیا، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کا ایک تاجر دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے، سندھ حکومت کو متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
کراچی موبائل ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی مرتضیٰ کو دہشت گردوں نے شہید کیا، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل، وفاقی وزیر داخلہ اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
منہاج گلفام کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھی پاکستان کا حصہ ہے، شہریوں کو ملک کے کسی بھی حصے میں بلاخوف سفر کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول کی میت اپنی مدد آپ کے تحت کراچی منتقل کی گئی، جبکہ ان کی اہلیہ کو چار سے پانچ گولیاں لگی ہیں اور وہ اب بھی اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔