مریخ میں بڑے پیمانے پر میگما سسٹمز کی موجودگی کا انکشاف

مریخ کے اندر ماضی میں وسیع اور پیچیدہ میگما (پگھلی ہوئی چٹان) کے نظام موجود تھے: سائنس دانو


ویب ڈیسک June 29, 2026

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کے اندر بڑے پیمانے پر میگما کے سسٹمز موجود ہوں اور یہ سیارے پر زندگی کے آثار کی تلاش میں ہم اثرات رکھ سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کو ہونے والی نئی دریافتوں میں معلوم ہوا ہے کہ مریخ کے اندر ماضی میں وسیع اور پیچیدہ میگما (پگھلی ہوئی چٹان) کے نظام موجود تھے، جو زمین پر پائے جانے والے میگما سسٹمز سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ دریافت اس روایتی تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ ایسے نظام صرف ان سیاروں پر بن سکتے ہیں جہاں پلیٹ ٹیکٹونکس موجود ہو۔

ماہرین کے مطابق مریخ ایک ’اسٹیگننٹ لِڈ‘ سیارہ ہے، یعنی اس کی سطح زمین کی طرح حرکت کرنے والی ٹیکٹونک پلیٹوں میں تقسیم نہیں۔ اسی وجہ سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ مریخ کی سطح اور اندرونی ساخت نسبتاً سادہ ہوگی۔

تاہم، نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مریخ نے پلیٹ ٹیکٹونکس کے بغیر بھی ایک انتہائی ارتقائی اور پیچیدہ کرسٹ تشکیل دی، جو مختلف ارضیاتی عمل کے ذریعے وجود میں آئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف مریخ کی ارضیاتی تاریخ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ یہ بھی اشارہ کرتی ہے کہ دیگر چٹانی سیارے بھی، چاہے ان پر پلیٹ ٹیکٹونکس موجود نہ ہو، زندگی کے لیے موزوں ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق زیرِ زمین میگما نظام حرارت اور کیمیائی توانائی فراہم کر سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر جرثوموں جیسی سادہ خلائی حیات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئی تحقیق کو مریخ اور دیگر سیاروں پر زندگی کی تلاش کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔