پہاڑوں کے دامن میں صبحیں ہمیشہ جلدی جاگتی ہیں۔ سورج ابھی دریا کے پار پہاڑ کی اوٹ میں تھا مگر روشنی نے چھلت کے مکانوں کی چھتوں کو چھو لیا تھا۔ ہوا میں ہماری سانس سانس میں ٹھنڈک سی تھی۔ وہ صبح جیسے کسی وعدے کی طرح تھی، وعدہ ایک نئے منظر، ایک نئے امتحان اور شاید ایک نئے انکشاف کا۔
ہم نے پچھلے دو دن خود کو پہاڑی ہوا، سخت زمین اور فطرت کے بہاؤ کے مطابق ڈھالنے میں گزارے تھے۔ جسم ابھی تھکاؤٹ سے آزاد نہیں ہوا تھا مگر دل کے اندر ایک ہلچل تھی۔ وہی بیچینی جو کسی نئی مہم سے پہلے روح میں جاگتی ہے۔ برکوت چراگاہ کا نام ہی اب ہمارے اندر ایک طلسم بن چکا تھا۔ پچھلے برس کا نامکمل سفر، میری واپسی، اور فیمان کی کام یابی — سب ایک طرح کی کہانی کا پہلا باب بن چکے تھے۔ اب وقت تھا دوسرے باب کو لکھنے کا۔
سن دو ہزار تئیس میں جب فیمان اور میں پہلی بار اس مہم پر نکلے تھے تو میں نے پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد ہار مان لی تھی۔ وہ پہاڑ جیسے انسان کی برداشت آزمانے کے لیے بنایا گیا ہو۔ میں تھک کر واپس لوٹ آیا مگر فیمان نے حسن (میرے مقامی دوست عالمگیر کے بھانجے) کے ساتھ سفر جاری رکھا۔ اس نے تین چار روز برکوت کی چراگاہ میں گزارے، اور جب وہ واپس آیا تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ وہ پہلا سیاح تھا جس نے اس چراگاہ کو دیکھا۔
وہ تجربہ میرے اندر اٹک گیا۔ مجھے لگا جیسے پہاڑ نے مجھ سے کوئی وعدہ لیا تھا، کوئی ناتمام جملہ چھوڑ دیا تھا۔ سو سن دو ہزار چوبیس کے جولائی میں ہم دوبارہ نکلے — اس بار کچھ زیادہ تیار، کچھ زیادہ سنجیدہ۔
ٹیم میں اس بار اشنہ الٰہی، فیمان علی، میں خود، اور دو مقامی دوست عالمگیر اور شوکت بھائی تھے۔ تجربے نے ہمیں سکھا دیا تھا کہ فطرت کے امتحان میں کم زوری کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس بار ہم نے ایک خچر کا اضافہ بھی کیا تھا تاکہ اضافی سامان اس پر لادا جا سکے۔ پچھلی بار سب کچھ اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑا تھا اور شاید وہی بوجھ میری ہمت توڑ گیا تھا۔ اس بار ہم ہلکے دل اور پُرامید تھے۔
صبح ٹھیک پانچ بجے چھلت قریہ سے روانگی ہوئی۔ ہوا میں برف پگھلنے کی خوشبو تھی، جیسے پہاڑ سانس لے رہا ہو۔ سورج کی سنہری کرنیں ہنزہ نگر دریا کے شفاف پانی پر محوِرقص تھیں۔ دریا کے بہاؤ میں ایک موسیقیت تھی — کبھی دھیرے، کبھی تیز — جیسے کوئی قدیم زبان میں ہم سے بات کر رہا ہو۔

ہم نے دریا کے مغربی کنارے سے قدم بڑھائے، مطلب موجودہ قراقرم ہائی وے کے مخالف سمت میں۔ عالمگیر بتا رہا تھا کہ جدید سڑک بننے سے پہلے یہی پرانا جیپ روڈ ہوا کرتا تھا، جو اب وقت کی ضربوں سے مٹ چکا ہے۔ کہیں کہیں اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں، جیسے زمین پر ماضی کے زخم باقی ہوں۔ عالمگیر کے بابا، مہربان، کبھی اسی جیپ روڈ پر گاڑی چلایا کرتے تھے۔ وہ سنہ انیس سو ساٹھ کی دہائی تھی — جب یہ پہاڑ شاید اور زیادہ خاموش تھے۔ آج ہم بھی اسی قدیم گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔
ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم چھنس آبشار کے سامنے تھے۔ اس آبشار کا کوئی باضابطہ نام نہیں مگر میں نے اسے ’’چھنس آبشار‘‘ کہہ دیا کہ دریا کے پار چھنس کا مقام نظر آتا تھا۔ پانی پہاڑ کی چھاتی سے گرتا ہوا سفید دھویں کی طرح بکھر رہا تھا۔ آواز میں ٹھہراؤ تھا، جیسے کسی بزرگ کی سرگوشی ہو۔ ہم سب نے یہاں رک کر بوتلیں بھرلیں۔ عالمگیر نے ہدایت دی کہ یہاں سے آگے کوئی پانی کا ذریعہ نہیں — کم از کم گیارہ گھنٹے تک۔ سو ہر ایک کے پاس ایک ایک لیٹر پانی ہونا لازم تھا۔
چھنس آبشار تک ٹریک نرم مزاج تھا۔ دریا ساتھ ساتھ بہہ رہا تھا، زمین زیادہ ڈھلوان نہیں تھی، راستہ کھلا تھا۔ ندی کے کنارے چلنے کا اپنا لطف ہوتا ہے — ایک طرف پانی کا بہاؤ، دوسری طرف پہاڑ کی چپ۔ مگر جیسے ہی ہم نے دریا کی مغرب کی سمت اوپر پہاڑ پر نگاہ ڈالی، منظر بدل گیا۔ وہاں سے ٹریک کا اصل امتحان شروع ہوتا تھا — عمودی چڑھائیوں کا، بنجر زمین کا، اور تیز دھوپ کا۔
آدھے گھنٹے بعد ہی سانس تیز ہوگئی۔ ہم رکتے، پھر چلتے، چھوٹے چھوٹے قدم۔ پہاڑ جیسے حدِ صبر جانچ رہا تھا۔ زمین خشک اور سخت تھی، کہیں کوئی درخت نہیں، کوئی سایہ نہیں۔ یہ وہ راستہ تھا جہاں سیاح نہیں آتے۔ یہاں بس چرواہے آتے ہیں — چھلت کے وہ مرد ِ آہن جو ہر گرمیوں میں اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ اوپر چراگاہوں کی دنیا بساتے ہیں۔
یہ ٹریک کیا تھا — بس دو فٹ چوڑا راستہ، جس پر بے ترتیب پتھر بکھرے تھے۔ نیچے گہری کھائی، اوپر جلتا آسمان۔ میں دل ہی دل میں سوچتا رہا کہ فطرت انسان کو تھکانے کے بہانے تلاش کرتی ہے، تاکہ وہ اپنی حد پہچان سکے۔
تین گھنٹے کے سفر کے بعد تھوڑا سبزہ دکھائی دینے لگا۔ کچھ صنوبر کی جھاڑیاں، جو کہیں کہیں اگ آئی تھیں۔ بس وہی جھاڑیاں ہمارے ٹھکانے بن گئیں۔ ہم ان کے سائے میں دو تین منٹ کے لیے بیٹھ جاتے، نیچے دیکھتے، جہاں ہنزہ نگر دریا چمک رہا تھا۔ قراقرم ہائی وے اب اتنی نیچے تھی کہ بس ایک چمکتی لکیر نظر آتی تھی۔
اشنہ خاموش تھی مگر اس کے چہرے پر وہی حیرت تھی جو کسی بچے کے دل میں فطرت بار بار اتارتی ہے۔ فیمان کا چہرہ عزم سے بھرا ہوا تھا — وہ جگہ جانا چاہتا تھا جہاں وہ پچھلے برس اکیلا پہنچا تھا، مگر اس بار وہ ہم سب کے ساتھ تھا۔
یوگی بابا کا کہنا ہے،’’ٹریک پر لمبے قیام سے جسم ٹوٹ جاتا ہے، ناراض ہوجاتا ہے۔‘‘ یہی اصول ہم نے اپنایا۔ وقفے مختصر، قدم مسلسل۔
پانچ گھنٹے ہو چکے تھے۔ سورج تپ رہا تھا، اور ہم اس مقام پر پہنچ گئے جہاں پچھلے برس میری ہمت ٹوٹ گئی تھی۔ عالمگیر نے مذاقاً اس مقام کا نام رکھا ہوا ہے،‘‘ ڈاکٹر کاشف پوائنٹ۔’’ انسان کو اپنی کمزوری یاد رہے تو اگلی بار راستہ آسان ہوجاتا ہے۔ ہم نے یہاں چند منٹ کے لیے قیام کیا، پانی کے چند گھونٹ لیے، بسکٹ کھائے اور آگے چل پڑے۔
یہ پہاڑ شیطان کی آنت کی طرح اتنا طویل ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ ایک ہی خشک ڈھلوان، ایک ہی تیز دھوپ، ایک ہی خاموشی۔ میں نے کہا، ’’نہ پہاڑ بدلتا ہے، نہ منظر۔‘‘ فیمان نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ’’پھر بابا، ہم کیوں بدلنے آئے ہیں؟‘‘ میں نے کہا، ’’دیکھنے کہ شاید اندر کچھ بدل جائے۔‘‘
ہم نے عزم کیا کہ اب رکنا نہیں، جب تک پہلا پہاڑ ختم نہ ہوجائے۔ ٹانگیں جیسے لکڑی بن گئی تھیں۔ قدم اٹھانا مشقت تھی مگر پیچھے مڑنا بھی ممکن نہیں تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد اشنہ پانی کا گھونٹ دیتی، فیمان آگے بڑھ کر کوئی نمکو، چاکلیٹ وغیرہ۔ ہم سب ایک دوسرے کے حوصلے سے چل رہے تھے۔ یہ وہ لمحے تھے جب رفاقت قوت بن جاتی ہے۔
ساڑھے چھے گھنٹے بعد ہم اس پہاڑ کی کگار پر پہنچ گئے۔ سامنے ایک بڑی چٹان نے قدرتی چھجہ سا بنا رکھا تھا۔ ہم نے وہیں آرام کا فیصلہ کیا۔ نیچے قراقرم ہائی وے اب محض خواب جیسی تھی — ایک باریک لکیر جو سورج کی روشنی میں چمک رہی تھی۔
ہم نے جیکٹس اور رین کوٹ بچھا کر لیٹنے کی جگہ بنائی۔ تھکن اتنی تھی کہ بولنے کی سکت نہیں تھی۔ اشنہ اور فیمان زادِ راہ کھاتے کھاتے ہی سوگئے۔ میں نے آسمان دیکھا — ہلکے بادل تیر رہے تھے۔ اچانک ہلکی پھوار نے موسم بدل دیا۔ ہوا میں ٹھنڈک گھل گئی۔ میں نے آنکھیں بند کیں تو جیسے پہاڑ میرے اوپر جھک آئے۔ یہ ایسا ہی ماحول تھا کہ محبوب کی یاد آنا لازم ٹھہرا۔ تیرا وجود نہیں تھا، تم موجود تھے۔
نیچے دور خچر دکھائی دیا۔ میں نے ہتھیلیوں کو آنکھوں کے سامنے چھتری بنا کر دیکھا — عالمگیر اور شوکت ابھی بہت پیچھے تھے۔ اندازہ ہوا کہ انہیں یہاں تک پہنچنے میں دو گھنٹے اور لگیں گے۔ میں نے مسکرا کر سوچا،’’روسٹ مرغی اب ان کا ہی نصیب ہے‘‘ کہ ہمارے بستوں میں بس چاکلیٹ، نمکو، بسکٹ، پانی اور فرسٹ ایڈ کی ہی جگہ تھی۔ کیمپ، سلیپنگ بیگ، روسٹ مرغی کی شکل میں دوپہر کا کھانا سب کچھ تو خچر ’’صاحب‘‘ کے پاس تھا۔
خاموشی میں صرف ہوا کی آواز تھی، جیسے پہاڑ لوری دے رہا ہو۔
چٹان کے نیچے بیٹھے بیٹھے میں نے سوچا — شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اور فطرت کے درمیان لکیر مٹتے محسوس کرتا ہے۔ یہاں خواہشیں تھم جاتی ہیں، یہاں وقت رک جاتا ہے۔ میں نے اپنے پچھلے برس کے ادھورے سفر کو یاد کیا، اپنی واپسی کو، اور فیمان کے حوصلے کو۔ اب میں وہ سب سمجھ رہا تھا جو پہاڑ مجھے تب نہیں سمجھا سکا تھا۔ فطرت میں فتح کا مفہوم الگ ہے — یہاں جیت وہی ہے جو خود کو ہارنے کی اجازت دے۔
اس لمحے مجھے لگا کہ پہاڑ نے مجھے قبول کرلیا ہے — پچھلے سال میں ادھورا واپس آیا تھا، اس بار میں مکمل ہو رہا تھا۔
یہ راستہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا، مگر اب اس میں خوف نہیں تھا۔ بس ایک عجب سا سکون تھا، جیسے کسی نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ہو،
’’اب تم میرے ہو۔‘‘
دھوپ دھیرے دھیرے نرم ہو رہی تھی۔ بادل اوپر ٹھہر گئے۔ میں نے ایک گھنٹہ بعد بچوں کو جگایا کہ ابھی بہت سفر باقی تھا۔ ایک گھنٹے کے قیام نے جسم میں وہ تازگی لوٹا دی جیسے تھکن کی گرد جھاڑ دی گئی ہو۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنے اس قدرتی چھجے نے ہمیں وہ سایہ دیا تھا جو سارا دن سورج کے رحم و کرم پر رہنے کے بعد ایک نعمت سے کم نہ تھا۔ اب ہمیں وہ پہاڑ چھوڑ کر دوسرے پہاڑ کو عبور کرنا تھا۔ بارش کے بعد ہوا میں نمی تھی، مٹی سے خوشبو اُٹھ رہی تھی، اور آسمان نے وہ شفاف نیلا رنگ اوڑھ رکھا تھا جو بس بلندیوں پر ہی نظر آتا ہے۔
نیا پہاڑ نسبتاً نرم مزاج تھا۔ پچھلا پہاڑ جیسے زمین پر عموداً کھڑا تھا — چالیس، پینتالیس درجے کے زاویے پر۔ مگر اب کے پہاڑ جیسے مسکرا کر کہہ رہا ہو، ’’چلو، میں تمہیں تھوڑا سکون دیتا ہوں۔‘‘ زاویہ کم ہوا، راستہ ذرا ہموار ہوا، اور اب سبزہ بھی ساتھ ہو لیا۔ گھاس کا ساتھ تھا، کہیں کہیں چھوٹے پھولوں نے زمین کو قوسِ قزح کے ٹکڑوں سے سجا دیا تھا۔ فضا میں ہلکی خنکی تھی، مگر دلوں میں گرمیِ شوق۔
رفتار ہماری کم تھی، قدم ناپ تول کر اٹھ رہے تھے۔ فضا میں خاموشی کا راج تھا، بس کبھی کبھی پتھروں کے سرکنے کی آواز آتی، یا پھر دُور کسی چٹان سے گرتے چھوٹے پتھروں کی گھن گرج۔ اور پھر ایک وقت آیا جب نیچے سب کچھ گم ہو گیا — قریہ چھلت، دریا، حتیٰ کہ قراقرم ہائی وے بھی۔ اب بس ہم تھے، پہاڑ تھے، اور آسمان۔
یہ وہ مقام تھا جہاں زمین ختم ہوتی محسوس ہوتی تھی اور فضا میں داخلہ شروع۔ نیچے کی دنیا بس ایک خواب کی مانند لگ رہی تھی۔ اور اس خواب کے اوپر ایک حقیقت — راکا پوشی۔ برف کی پوشاک پہنے، بادلوں کی اوٹ میں کبھی ظاہر کبھی غائب۔ جیسے کوئی خاموش دیوی اپنے دامن سے روشنی کے جال بُن رہی ہو۔ ہم اس کے سامنے خاموش کھڑے تھے، جیسے کسی مقدس مزار پر حاضری ہو۔
دوپہر کا وقت تھا، شاید دو بجے۔ ہوا میں ایک غیرمعمولی گھن گرج گونجی۔ ہم نے چونک کر آسمان دیکھا، ایک ہیلی کاپٹر تھا۔ وہ شاید گلگت سے ہنزہ کی سمت جا رہا تھا۔ مگر حیرت انگیز لمحہ یہ تھا کہ ہم اس سے بلند تھے۔ وہ ہم سے نیچے فضا میں اڑ رہا تھا۔ اشنہ ہنسی، ’’بابا! اب تو واقعی ہم آسمان کے مکین بن گئے ہیں۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا،’’بس سانسیں ہی رہ گئی ہیں جو زمین کی یاد دلا رہی ہیں۔‘‘ اس ٹریک کی ایک خاص بات یہ تھی کہ جیسے ہی میں تھکتا، اشنہ میر اہاتھ تھام کر مجھ سے کہتی ہمت نہیں ہارنی اور مجھے میکس ول کی ورلڈ کپ کی وہ اینگز یاد دلاتی جب انجری کے باوجود اکیلے نے میچ جتوایا تھا۔
اب چڑھائی نسبتاً نرم تھی، مگر تھکن جیسے اندر ہی اندر جم گئی تھی۔ اشنہ کے چہرے پر خاموشی تھی، مگر آنکھوں میں چمک تھی۔ فیمان کبھی آگے، کبھی پیچھے۔ وہ پچھلے برس کا راہی تھا، جانتا تھا ہر موڑ، ہر چٹان کی کہانی۔ میں اور اشنہ اُس کے پیچھے قدم بہ قدم، جیسے الفاظ اپنے معنی کے پیچھے۔
راستے کے دونوں طرف سبزہ تھا۔ ان سبز دھاروں میں کچھ چھوٹے پھول چمک رہے تھے۔ فضا میں ایک خوشبو تیر رہی تھی جو شاید کسی نا معلوم جڑی بوٹی سے اُٹھ رہی تھی۔ تھکن کے باوجود دل چاہتا تھا رک کر ان پھولوں سے بات کی جائے۔
سہ پہر کا وقت تھا، شاید تین بجے کے قریب۔ ہم دو تین پہاڑ عبور کرچکے تھے کہ اچانک فیمان رُکا، اس کے چہرے پر تشویش تھی۔ ’’بابا! لگتا ہے میں راستہ بھول گیا ہوں۔‘‘
میرے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔ پہاڑ کی خاموشی میں اس جملے کی بازگشت کئی لمحے تک گونجتی رہی۔ میں نے اشنہ کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پر بھی وہی حیرت تھی۔
میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا،’’پریشانی نہیں، پہاڑ راستے چھپاتے نہیں، بس آزماتے ہیں۔‘‘
میں نے فیمان سے کہا کہ قریبی کگار پر جا کر بیٹھ جائے، سانس لے، اور یاد کرے اور دور دور تک نظر دوڑا کر راستہ تلاش کرے۔ وہ پتھریلی ڈھلوان پر چڑھ گیا۔ میں اور اشنہ لیٹ گئے۔ آسمان پر بادلوں کے ہلکے ہلکے پرے تیر رہے تھے۔ میں نے دل ہی دل میں دعا کی، ’’اے پہاڑ، یہ تیرا امتحان ہے، ہمارا نہیں۔‘‘
کچھ دیر بعد فیمان واپس آیا۔ چہرے پر وہی اعتماد جو کبھی صرف فطرت کی قربت سے ملتا ہے۔
بابا، دائیں طرف مڑنا ہے، تھوڑا شمال کو۔ وہاں ایک نالہ ہے، اس کے پار کچھ مغرب کی طرف چرواہوں کے ہٹ ہیں، مجھے نظر آ گئے ہیں۔
ہم نے دور دیکھا۔۔۔ بہت دور۔ پہاڑوں کے دامن میں کچھ نقطے جیسے ماچس کی ڈبیوں کی مانند چرواہوں کے ہٹ۔ میں نے ہاتھوں سے آنکھوں کو چھتری بنایا، اور وہی نقطے دیکھے، ہاں، وہی ہوں گے۔
اب راستہ نرم مزاج تھا، مگر جسم سخت تھکا ہوا۔ چھلت سے چلے دس ساڑھے دس گھنٹے ہوچکے تھے۔ سانسیں بوجھل، مگر خواب زندہ۔ راستے میں کچھ غاریں آئیں۔ ان کے دہانے پر جلے ہوئے لکڑی کے نشان تھے۔ میں نے سوچا، یہاں یقیناً چرواہے چائے بناتے ہوں گے، یا شاید بارش سے پناہ لیتے۔
پھر زمین نے سبز قالین اوڑھ لیا۔ صنوبر کے درخت آتے گئے، جھاڑیاں، پھول، سبزہ۔ گوبر کی موجودگی بتا رہی تھی کہ اب ہم چراگاہ کے قریب ہیں۔ فضا میں بھیڑوں کی ہلکی ہلکی گھنٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔

اور پھر وہ لمحہ آیا۔ فیمان نے جس نالے کا ذکر کیا تھا، وہ سامنے آگیا۔ نالہ مکمل خشک تھا، جیسے کسی نے پانی کی رگ کاٹ دی ہو۔ مگر ہمیں اس سے فرق نہیں پڑا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ ہم صحیح راہ پر ہیں۔
سبزہ بڑھتا گیا۔ بکریوں کے جھنڈ سامنے آئے۔ کچھ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر، کچھ چراگاہ کی سمت اترتے۔ ان کے ساتھ چند چرواہے — دور دور، ہاتھوں میں لاٹھیاں، چہروں پر دھوپ کا رنگ۔
شام کے پونے چھے کا وقت ہوچلا تھا۔ چھلت سے نکلے ہمیں لگ بھگ تیرہ گھنٹے ہو چکے تھے۔ آسمان کے کناروں پر سورج ڈھل رہا تھا۔ پہاڑوں پر سنہری روشنی بکھر رہی تھی۔ اور ہم برکوت چراگاہ کے دل میں تھے۔
پہلا منظر — لکڑی اور پتھروں سے بنی رہائش گاہیں۔ چھوٹے ہٹ۔ ایک طرف دھواں اُٹھ رہا تھا، شاید آگ جل رہی تھی۔ اور فضا میں وہ مخصوص خوشبو — جلتی لکڑی، اور خنک ہوا کی آمیزش۔
میں زمین پر بیٹھ گیا، پھر لیٹ گیا۔ جسم ہار مان چکا تھا، مگر دل جیت گیا تھا۔
فیمان اور اشنہ دونوں مسکرا رہے تھے۔
میں نے ہلکی آواز میں کہا، ’’بس اب اگر ایک کپ چائے مل جائے اور کچھ نہیں۔‘‘
چرواہوں نے ہمارا استقبال کیا۔ ان کے چہرے پہ حیرت، مسکراہٹ، اور مان تھا۔ ایک نے مسکرا کر کہا،
’’ڈاکٹر صاحب، پچھلے سال آپ نہیں پہنچ سکے تھے ناں؟ آج تو آپ کی بیٹی نے بھی ٹریک کرلیا ہے۔‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’پہاڑ سے بڑا کوئی استاد نہیں۔‘‘
ہمارے موبائل نیٹ ورک تو جی جان چھوڑ چکے تھے، چرواہوں کے پاس دس ساڑھے دس ہزار فٹ کی بلندی پر ایس کام کے نیٹ ورک کے تھکے ہارے تھوڑے تھوڑے سگنل آجاتے تھے تو فوراً ہی انہوں نے خبر چھلت گاؤں پہنچا دی کہ اشنہ پہلی لڑکی سیاح ہے جو برکوت کی چراگاہ پہنچی۔ موبائل چارجنگ کے لئے سولر پینل زندہ باد۔
اور اس لمحے، جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈوب رہا تھا، بکریوں کے گلے میں بندھی گھنٹیاں بج رہی تھیں، اور آگ کے گرد ہم سب بیٹھے تھے — میں نے محسوس کیا کہ برکوت چراگاہ صرف ایک جگہ نہیں، ایک خواب ہے۔ ایک ایسا خواب جو سانس لیتا ہے، جو تھکن کے پار سکون دیتا ہے۔
چائے کا پہلا گھونٹ جیسے روح میں اتر گیا۔ اور میں نے سوچا کہ بلندیاں، چراگاہیں اور خواب — سب ایک ہی کہانی کے باب ہیں، بس راہی بدلتے رہتے ہیں۔
ایک دن برکوت آنے میں لگا، ایک دن جانے میں، اور دو دن (تین راتیں) ہم نے اس چراگاہ میں گزارے۔ دو دن۔۔۔مگر وہ دو دن ایسے تھے جیسے زندگی کا سارا حاصل، سارا سرمایہ، ساری دولت اِن ہی کچھ گھنٹوں میں سمٹ آئی ہو۔ وقت نے یہاں اپنی رفتار بدل دی تھی، ہر لمحہ ایک مکمل داستان بن کر رہ گیا تھا۔ پہلا دن تو ہم نے چرواہوں کے سنگ ان کے لکڑی کے بنے ہٹ کے قریب ہی اپنا کیمپ لگا لیا تھا۔ جولائی کا مہینہ تھا، مگر دس گیارہ ہزار فٹ کی اس بلندی پر رات کی سردی اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔ ہوا میں تیز نمی تھی، ٹھنڈ بھی تھی۔ مگر ہمارے نرم و گرم سلیپنگ بیگ نے رات کو آسودگی میں بدل دیا۔ وہ رات، بیس جولائی کی رات، چاند کی چودہویں کا چاند تھا جو پورے آسمان پر ایک چاندنی چادر بچھائے ہوئے تھا۔ مگر ہم ٹریک کی تھکان سے اس قدر نڈھال تھے کہ اس چاندنی کے نظارے سے مکمل لطف اندوز ہوئے بغیر ہی گہری نیند میں ڈوب گئے۔
صبح جب آنکھ کھلی تو سورج پہاڑوں کی اوٹ سے نکل کر ہمارے خیمے پر پڑ رہا تھا۔ زپ کھولی تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے ہمیں اپنے ہونے کا احساس دلایا اور ساتھ ہی وہ منظر سامنے تھا جس کے لیے ہم نے یہ سفر کیا تھا۔ سامنے قطار در قطار پہاڑی ملکائیں کھڑی تھیں، جیسے پریوں کا کوئی جلوس ہو۔ کچھ نے برف کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، کچھ نے سبزہ زاروں کے دامن سجا رکھے تھے اور کچھ بھوری تھے۔ ہر پہاڑ اپنی جداگانہ شان لیے کھڑا تھا، ہر وادی اپنی الگ کہانی سناتی محسوس ہوتی تھی۔ جلد ہی چرواہا زاہد ہمارے پاس آ پہنچا، ہاتھ میں بھاپ اڑاتی ہوئی نمکین چائے کے کپ تھے، جو بکری کے دودھ سے تیار کی گئی تھی، جس میں ایک مخصوص بھینی بھینی خوشبو تھی۔ اب سرد ہوا کے جھونکے اور گرم چائے کی چسکیاں ایک ساتھ مل رہی تھیں، اور ہم نظاروں کو اپنے اندر اتار رہے تھے۔ پھر وہ لمحہ آیا جب بادل ہٹے اور قراقرم کی ملکہ، راکاپوشی، مکمل برف میں لپٹی ہمارے سامنے ظاہر ہوئی۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے فطرت نے اپنا سب سے انمول خزانہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہو۔ ہم نے اس منظر کے لیے ہی تو یہ سارا کشٹ اٹھایا تھا۔ نیچے نگر یا ہنزہ سے راکاپوشی کا ایسا نظارہ ممکن ہی نہیں تھا۔ ہم واقعی خوش نصیب تھے کہ برکوت سے اس کا دیدار کررہے تھے، اور مزید خوش نصیب کہ بادلوں نے پردہ نہیں کیا تھا۔ مگر فطرت کی یہ مہربانی عارضی تھی، جیسے ہی سورج بلند ہونا شروع ہوا، بادل بھی راکاپوشی کی چوٹی کو چومنے پہنچ گئے، اور اس نے مکمل دیدار دینے کے بعد خود کو بادلوں کے حصار میں چھپا لیا۔
ناشتے میں نمکین چائے اور چرواہوں کی مخصوص روٹی ’’پِھٹی‘‘ تھی۔ یہ روٹی گندم کی تھی مگر کافی موٹی، جسے چرواہے اور شکاری لمبے سفر اور سرد موسم کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ماحول کے تناظر میں اس کا ذائقہ ہمیں بہت بھایا، سادہ مگر توانائی سے بھرپور۔ ناشتے کے بعد ہم چراگاہ کے سبزہ زاروں میں نکل گئے۔ سبزہ تھا اور بہت تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے زمرد کا قالین بچھا دیا ہو۔ چشمے تھے اور بہت تھے، ہر طرف پانی کے شفاف دھارے بہہ رہے تھے۔ پانی بہت سرد تھا، مگر پینے میں ایسا فرحت بخش کہ لگتا تھا جیسے زندگی کا اصل سرور اسی میں پنہاں ہو۔ پھولوں کی بہتات تھی، نیلے، پیلے، سرخ، بنفشی، ہر رنگ کے پھول ہوا میں جھوم رہے تھے۔ جب آپ اردگرد نگاہ دوڑاتے تو ہر طرف بلند پہاڑ اور ان پر صدیوں کی داستان سناتے گلشیئر نظر آتے۔ یہ منظر ایسا تھا جیسے وقت نے یہاں رک کر ہمیں اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہو۔
فیمان نے ایک ہم عمر چرواہے کو دوست بنالیا تھا اور قریب کے پہاڑوں کی طرف نکل گیا تھا۔ عالمگیر اور زاہد مل کر بکرا ذبح کر رہے تھے، کیوںکہ آج ہماری ضیافت تھی۔ میں اور اشنہ چرواہوں کے ہٹ سے دو تین کلومیٹر دور ایک بڑے چشمے کی طرف چل پڑے۔ یہ چشمہ ہٹ سے تھوڑا اوپر کو تھا۔ راستے میں ہمیں بکریوں کے ریوڑ ملے، جو مزید اوپر کو جا رہے تھے۔ کچھ بکریاں جو رہ گئی تھیں، وہ ہمارے پیچھے پیچھے چل پڑیں۔ برکوت چراگاہ آج ہماری تھی، یہ چشمہ ہمارا تھا۔ یہاں ہم تھے، میں اور اشنہ، اور کوئی مالک نہیں تھا۔ ہم نے پانی سے اٹکھیلیاں کیں، میں نے اشنہ سے کہا کہ یہ جھرنا اصل میں ان برف زاروں کی صدیوں کی کتھا ہم کو سناتا ہے جو مزید اوپر پہاڑوں کی کوکھ میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔
تھوڑی دیر بعد نیچے چرواہوں کے ہٹ کی طرف سے کچھ مہمان آئے۔ یہ کچھ گائیں تھیں جو پانی پینے آئی تھیں۔ ایک ایک، دو دو کر کے آتی گئیں، پانی پیتی گئیں، اور سست روی سے واپس ہٹ کی طرف چلی گئیں۔ ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں تھی، ہم بھی انہیں دیکھتے رہے۔ کچھ دیر بعد اشنہ مجھ سے الگ ہوگئی۔ اب ہر ایک کی اپنی دنیا تھی۔ وہ پانی کے ساتھ کھیل رہی تھی، اور میں تنہا جھرنے کے کنارے لیٹا اس کی موسیقی سن رہا تھا۔ یہ موسیقی ایسی تھی جیسے فطرت کا دل دھڑک رہا ہو—ہر سرسراہٹ میں ایک نیا سُر، ہر بلبلاہٹ میں ایک نئی دھن۔
دوپہر کے بعد چائے کی طلب ہمیں پھر چرواہوں کے ہٹ کی طرف لے آئی۔ اس بار چائے پھیکی دی گئی تھی، اور ساتھ ہمارے پنجاب کے کوہستان نمک کا ایک ڈھیلا پکڑا دیا گیا۔ جتنا نمک چاہیے، اتنا گھول لو۔ نمک چائے میں گھل رہا تھا، اور سامنے کا راکاپوشی والا منظر میرے اندر گھل رہا تھا۔
چائے کے بعد چرواہوں سے ڈھیروں باتیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے یاک جنگلی ہیں، یعنی سارا برس پہاڑوں میں آزاد رہتے ہیں۔ سردیوں میں بھی نیچے وادیوں میں نہیں لے جائے جاتے۔ بکریوں کا تو یہ ہے کہ گرما میں چراگاہ میں اور سرما میں نیچے وادیوں میں لے جائی جاتی ہیں، مگر یاک سارا برس اوپر ہی رہتے ہیں، بلکہ جہاں ہٹ تھا اس سے بھی مزید اوپر، تقریباً بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر۔ ہوتا یوں ہے کہ یاک کا مالک یاک کے کان پر اپنا ٹیگ لگا کر چراگاہ میں چھوڑ دیتا ہے۔ سارا برس آزاد گھومتا ہے۔ سرما میں بکریاں اور بھیڑیں اور گائیں نیچے لے جائی جاتی ہیں، پر یاک تب بھی آزاد اور اوپر ہی رہتے ہیں۔ ہاں، سرما میں وہ بارہ ہزار کی بجائے کوئی دس ہزار فٹ کی بلندی یا اس سے بھی تھوڑا نیچے آ کر سرما آزاد گزارتے ہیں۔ یاک چوںکہ مزید دو ہزار فٹ کی بلندی پر تھے تو وہاں جانے کی ہمت فیمان نے کی، وہاں کی تصویری زندگی فیمان ہم کو دی، وہاں پھول اور برف زار پاس پاس تھے، وہاں یاک کے ریوڑ تھے، کالے و سپید یاک، کچھ کے ساتھ یاک بچے بھی تھے۔
جب گرما میں یاک کے مالک کو یاک چاہیے ہوتا ہے، کھانے یا بیچنے کو، تو چرواہے اکٹھے ہو کر برکوت چراگاہ سے مزید اوپر جاتے ہیں اور ہانکا لگا کر، گھیر کر سب یاک نیچے لاتے ہیں۔ ہٹ کے پاس ایک بڑا سا باڑہ بنایا ہوا ہے، یاک اس میں جمع کرتے ہیں، اور مطلوبہ یاک پکڑ کر باقی آزاد کردیتے ہیں، جو اوپر بھاگ جاتے ہیں، جہاں پھولوں اور برف زاروں کا ملاپ ہوتا ہے۔ جو ایک دو یاک باڑے میں رہ جاتے ہیں، انھیں نیچے وادی میں لا کر بیچا جاتا ہے یا اپنے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ گورو کے بازار میں جب یاک کا گوشت آتا ہے تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔ چرواہوں نے بتایا کہ بالائی ہنزہ کے علاقے گوجال میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں کے یاک پالتو ہیں، ان کا دودھ بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ مگر چھلت و چھپروٹ والوں کے جو یاک برکوت میں ہوتے ہیں، وہ جنگلی ہوتے ہیں۔ سردیوں میں بس ایک خطرہ ہوتا ہے، تیندوا یاک کے بچوں کو کھاجاتا ہے۔
تھوڑی دیر بعد جب چائے کی توانائی سے ہم میں نئی روح آگئی اور میں اور اشنہ ایک کگار پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک دور پہاڑی ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے سفید اور بھورے نقطے ہلتے جلتے نظر آئے۔ جب ذرا غور سے دیکھا تو وہ بکریاں اور بھیڑیں تھیں جو اوپر کی چراگاہوں سے واپس ہٹ اور باڑے کی طرف آرہی تھیں۔ یہ عصر کا وقت تھا، اور چرواہے زاہد کے مطابق یہ اپنی روزمرہ کے معمول کے مطابق شام ڈھلنے سے پہلے واپس آجاتی ہیں۔ جب میں نے زاہد سے پوچھا کہ یہ ریوڑ کس راستے سے واپس آئیں گے، تو اس نے اسی جھرنے کی طرف اشارہ کیا جہاں میں اور اشنہ نے دوپہر کا بیشتر حصہ گزارا تھا۔ یہ سنتے ہی ہم دونوں تیزی سے اسی طرف چل پڑے، کیوںکہ ہم انھیں جھرنا پار کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔ اس بار رفتار میں تھوڑی تیزی تھی۔ جب ہم وہاں پہنچے، تو منظر دل کش تھا۔ بھیڑوں اور بکریوں کے ریوڑ ایک کے بعد ایک آرہے تھے۔ بھیڑیں پتھروں پر پھدکتے ہوئے جھرنا پار کر رہی تھیں۔ کچھ ایک کنارے سے پانی پی رہی تھیں، تو کچھ دوسرے کنارے سے۔ ہر جانور کو معلوم تھا کہ اسے کس سمت جانا ہے۔ ان کی گھنٹیوں کی آوازوں نے پورے ماحول کو ایک عجیب سی موسیقی سے بھر دیا تھا۔ ہم ان کے پیچھے پیچھے ہولیے، اور یوں لگ رہا تھا جیسے ہم کسی ایسی سلطنت میں داخل ہو رہے ہوں جہاں ان جانوروں کی حکم رانی ہو۔
شام ڈھلنے سے پہلے ہم نے اپنی زندگی کا شاید سب سے خوب صورت منظر دیکھا۔ سورج غروب ہونے سے قبل اپنا سارا سنہری پن راکا پوشی کو عطا کر چکا تھا۔ بادل مکمل طور پر ہٹ چکے تھے، اور راکا پوشی کی برفانی چوٹیاں ایسی دکھائی دے رہی تھیں جیسے انہوں نے سونے کی پوشاک زیب تن کرلی ہو۔ یہ منظر اتنا حیرت انگیز تھا کہ میں اور اشنہ خاموش ہوکر اسے دیکھتے رہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ میرے خیال میں اس سے بہتر کوئی نظارہ نہیں ہوسکتا۔ فطرت نے اپنے پورے جلال و جمال کا مظاہرہ کیا تھا، اور ہم اس کے منتخب شدہ مہمان تھے جو اس نظارے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
رات کے کھانے میں صبح کے ذبح کیے گئے بکرے کا گوشت تھا، آلو اور یخنی ساتھ۔ ہٹ کی فضا میں اس کی مہک پھیل رہی تھی، جو بھوک بڑھانے کے لیے کافی تھی۔ ساتھ باریک روٹیاں تھیں اور وہی بکری کے دودھ کی نمکین چائے، جس کا ذائقہ اب ہمارے منہ میں پوری طرح بسی جا چکا تھا۔ کھانے کے بعد ہم نے اپنا خیمہ چرواہوں کے ہٹ سے تقریباً آدھا کلومیٹر اوپر ایک سبزہ زار میں لگایا۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ہم اس رات سے پوری طرح سے لطف اندوز ہو سکیں۔ وہاں صرف ہم تھے، پورے چاند کی چاندنی، اور تھوڑا سا خوف بھی۔ خوف اس لیے نہیں کہ کوئی خطرہ تھا، بلکہ اس لیے کہ ہم فطرت کے اس وسیع و عریض دامن میں خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہے تھے۔ رات تھوڑی سرد مگر پرسکون تھی کہ جدید ٹیکنالوجی سے دور سارا دن گزارا تھا، گھومتے پھرتے رہے تھے، تھکن تھی، رات میں بھی موبائل ہاتھ میں نہیں تھا بس فطرت کے ساتھ گھل مل گئے تھے اور ہمارے جسم و دماغ کی گھڑی فطرت کی گھڑی سے مطابقت پیدا کر چکی تھی سو نیند کی آغوش میں جانے کچھ ہی لمحے لگے۔ یوگی بابا کہتے ہیں اگر آپ کے جسم و دماغ کے اندر والے کلاک میں نقص آگیا ہے، نیند کی تربیت میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے تو آپ کو چند روز، جدید ٹیکنالوجی کو بھول کر، فطرت کی آغوش میں چلے جانا چاہیے، جہاں آپ اپنے کام خود کریں، لکڑیاں اکٹھی کر کے لائیں، خود کھانا بنائیں، خیمہ لگائیں، پانی کے لئے چشمے تک جائیں۔ پھر نیند لانے کی کوشش نہیں کرنا پڑے گی، نیند خود ہی پلکوں پر آکر براجمان ہو جائے گی۔
اگلی صبح بکریوں کی گھنٹیوں کی آواز نے ہمیں چھے ساڑھے چھے بجے جگا دیا۔ وہ باڑے سے دودھ دینے کے بعد اب اوپر کی چراگاہوں کی طرف جا رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ وہ ہمیں دیکھ کر حیران ہورہی ہوں گی کہ ان کی سلطنت میں یہ تین لوگ کون ہیں جو خیمہ گاڑے ہوئے ہیں۔ ناشتے کے بعد ہم پھر چرواہوں کی دنیا میں کھو گئے۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ چرواہے بھیڑ بکریوں کا دودھ دوہ کر انہیں آزاد کردیتے ہیں۔ ناشتے کے بعد دودھ سے لسی بنائی جاتی ہے، اور پھر مکھن نکالنے کا کام دوپہر تک جاری رہتا ہے۔ ان کا دیسی گھی ہی ان کی سب سے بڑی کمائی ہوتی ہے۔ چراگاہوں کا یہ دیسی گھی نیچے وادیوں میں اچھی قیمت پر بک جاتا ہے۔ کام سے فارغ ہوکر وہ لڈو کھیلتے ہیں، جو جیت جاتا ہے وہ آرام کرتا ہے باقی میں سے کوئی لکڑیاں لاتا ہے، کوئی کھانا پکاتا اور کوئی برتن دھوتا ہے۔
عصر کے قریب عالمگیر مجھے چراگاہ کے جنوب مغرب میں لے گیا۔ وہاں کچھ پرانے دور کے چند گھروں کے کھنڈرات موجود تھے۔ عالمگیر نے بتایا کہ کسی زمانے میں محدود تعداد میں لوگ یہاں رہتے تھے۔ اب صرف پتھروں کی دیواروں کے آثار تھے، اور کچھ پتھر کے بنے ہوئے ٹوٹے ہوئے برتن۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کوئی لنگری ہو—ایسا برتن جس میں وہ لوگ اناج یا مصالحہ پیستے ہوں گے۔ عالمگیر کے مطابق کچھ گھرانوں نے یہاں تب سکونت اختیار کی تھی جب نیچے وادیوں میں قبائلی لڑائیاں ہوتی تھیں۔
یہاں چراگاہ کے جنوب مغرب میں فطرت ہم پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہوگئی تھی۔ ہمیں قراقرم کے پہاڑوں پر کھڑے ہو کر تقریباً ایک سو بیس کلومیٹر دور (بصری دوری) پاکستان میں ہمالیہ کے سب سے بلند پہاڑ نانگا پربت کا نظارہ ملا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جسے انسان بہت عرصہ بعد اپنے محبوب ترین چہرے کو دیکھ رہا ہو۔ ایک چرواہے جیسے سیاح کو اور کیا چاہیے؟ میں نے سوچا کہ فطرت واقعی اپنے چاہنے والوں پر احسان کرتی ہے۔
اس دن ہم نے خیمہ پھر سے چرواہوں کے ہٹ کے پاس منتقل کرلیا، کیوںکہ آج برکوت میں ہماری تیسری اور آخری رات تھی۔ مجھے چرواہوں سے مزید کہانیاں سننی تھیں، ان کے ساتھ لڈو کھیلنا تھا۔ یہ رات تھوڑی اداس سی تھی، کیونکہ اگلے روز واپسی تھی۔ آج کی دعوت میں بکرے کے گوشت کے ساتھ ایک خاص روٹی پکائی گئی جسے ''گولی'' کہتے ہیں۔ یہ پتھر پر پکائی جاتی ہے اور اس پر اتنا دیسی گھی لگایا جاتا ہے جیسے اسے دیسی گھی میں ڈبو دیا گیا ہو۔ رات سرد تھی مگر ہٹ میں جلتی ہوئی آگ ہمیں گرمائے جا رہی تھی، اور باہر چاند پہاڑوں پر چمک رہا تھا۔
اگلی صبح ہم جلدی اٹھے، کیوںکہ مجھے زاہد کے ساتھ بکریوں کے باڑے میں جانا تھا۔ میں دودھ دوہتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا اور ان کی آزادی کا منظر دیکھنا چاہتا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو چرواہے پہلے ہی سے مصروف تھے۔ ہر بکری کو اس کے نام سے پکارا جا رہا تھا، ہاں چرواہوں نے ہر ہر بکری کا نام رکھا ہوا تھا، مگر صرف بکریوں کے، بکروں کے نہیں۔ دودھ دوہنے کے بعد ان کو آزاد کردیا گیا اور وہ اوپر کی چراگاہوں کی طرف چل پڑتی تھیں۔ اس کے بعد ہم نے ناشتہ کیا اور صبح آٹھ بجے واپسی کے سفر کا آغاز کیا۔ جاتے وقت ہم نے 22 کلومیٹر کا فاصلہ پونے تیرہ گھنٹوں میں طے کیا تھا، واپسی میں چوبیس کلومیٹر کا سفر دس گھنٹوں میں طے کر لیا۔ مگر راستے میں ہم صنوبر کے درختوں میں راستہ بھٹک گئے، جس کی وجہ سے دو کلومیٹر اضافی چلنا پڑا۔ جب برکوت سے واپسی کے لیے نکلے تو دل میں ایک عجیب سی کسک تھی۔ یہ چراگاہ، یہ پہاڑ، یہ چرواہے، یہ بکریاں، یہ یاک۔۔۔سب ہمارے دل کے کسی گوشے میں بس گئے تھے۔ واپسی کا سفر خاموش تھا، ہر ایک اپنے خیالات میں گم تھا۔ شاید ہم سب یہی سوچ رہے تھے کہ کبھی تو پھر لوٹیں گے اس چراگاہ میں، اس آسمان کے نیچے، ان ستاروں کے سائے میں۔
مجھے اترائی ہمیشہ چڑھائی سے مشکل لگتی ہے۔ جب پہاڑ نیچے کو دھکیلتا ہے تو ٹخنوں اور گٹنوں پر اضافی زور پڑتا ہے۔ جس طرح مشکل چڑھائی کر کے ہم برکوت گئے تھے، ویسے ہی مشکل اترائی کرتے ہوئے ہم شام کے تقریباً چھ بجے چھلت میں عالمگیر کے گھر پہنچے۔ عالمگیر کے والد مہربان اشنہ پر بہت خوش تھے، اور انہوں نے کہا کہ اس بچی نے بڑی ہمت کی ہے حالاںکہ عالمگیر مطابق اس کے بابا اس سفر سے پہلے اسے کہہ چکے تھے، کمزور سی بچی ہے شائد چراگاہ تک نہ پہنچ سکے اور ان کو واپسی کرنا پڑے۔ مگر مجھے پتہ ہے اشنہ کا سٹیمنا مجھ سے بہتر، ٹریک پر وہ جسمانی طور پر تھک بھی جائے تو ذہنی طور پر شکست نہیں مانتی۔
یہ صرف ایک سفر نہیں تھا، بلکہ ہماری زندگی کا ایک اہم باب ہے جو ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا۔ برکوت چراگاہ نے ہمیں وہ کچھ دیا جو شاید ہم کبھی بھول نہ سکیں—فطرت کے ساتھ جینے کا سلیقہ، سادگی کی خوبصورتی، چرواہوں کا خلوص و محبت اور زندگی کے اصل معنی۔ جب ہم چھلت سے واپس گھر کی طرف نکلے، تو ہمارے دلوں میں ایک عجیب سی کسک تھی۔ ہم جانتے تھے کہ ہم فطرت کی اس پرسکون دنیا کو چھوڑ کر شہر کی مصروف زندگی میں واپس جا رہے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ہم یہ بھی جانتے تھے کہ ہم نے جو کچھ دیکھا، جو کچھ سیکھا، وہ ہمارے اندر ہمیشہ زندہ رہے گا۔