امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے آثار سامنے آنے کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کے روز ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکا اور ایران نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے حملوں کے بعد ایک دوسرے پر مزید حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باوجود سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کسی حد تک اضافہ کیا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں، جو گزشتہ ہفتے جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ گئی تھیں، دوبارہ بڑھنے لگیں۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کار اب بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے۔ ہانگ کانگ، سڈنی، ویلنگٹن، تائی پے اور منیلا کی مارکیٹیں مثبت زون میں بند ہوئیں، جبکہ ٹوکیو، سیول، شنگھائی، سنگاپور اور جکارتہ کی مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہے۔ گزشتہ ہفتے شدید فروخت کے بعد جنوبی کوریا کی معروف چِپ ساز کمپنیوں کے شیئرز پر بھی دباؤ برقرار رہا اور ان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر شعبے میں تیزی کے باعث رواں سال سیول، ٹوکیو اور وال اسٹریٹ کے بڑے اسٹاک انڈیکس ریکارڈ بلند سطح تک پہنچے ہیں۔ صرف رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ایس کے ہائنکس کے حصص میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم حالیہ منافع خوری کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔