جنوبی ایشیا کے مقروض ترین ممالک کی فہرست جاری، پاکستان کا کون سا نمبر ہے؟

بنگلا دیش تیسرے نمبر پر ہے، جس کا مجموعی بیرونی قرض 102 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جبکہ وہاں فی شہری قرض 590 ڈالر ہے


ویب ڈیسک June 29, 2026

سال 2026 کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں بیرونی قرضوں کے لحاظ سے بھارت پہلے جبکہ پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں خطے کے آٹھ ممالک کے مجموعی بیرونی قرضوں اور فی کس شہری قرض کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کا مجموعی بیرونی قرض 765 ارب ڈالر ہے جبکہ ہر بھارتی شہری پر اوسطاً 535 ڈالر کا بیرونی قرض بنتا ہے، جس کے باعث بھارت جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ بیرونی قرض رکھنے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرض 138 ارب ڈالر ہے جبکہ فی پاکستانی شہری پر اوسطاً 530 ڈالر کا قرض ہے۔

بنگلا دیش تیسرے نمبر پر ہے، جس کا مجموعی بیرونی قرض 102 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جبکہ وہاں فی شہری قرض 590 ڈالر ہے۔

رپورٹ کے مطابق سری لنکا کا بیرونی قرض 57 ارب ڈالر ہے، تاہم آبادی نسبتاً کم ہونے کے باعث فی شہری قرض 2,590 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

نیپال اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے، جہاں مجموعی بیرونی قرض 11 ارب ڈالر اور فی شہری قرض 370 ڈالر ہے۔

بھوٹان کا مجموعی بیرونی قرض 3.5 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جبکہ ہر شہری پر اوسطاً 4,400 ڈالر کا قرض بنتا ہے۔

مالدیپ اگرچہ مجموعی قرض کے لحاظ سے نسبتاً کم یعنی 4 ارب ڈالر کا مقروض ہے، لیکن کم آبادی کی وجہ سے وہاں فی شہری قرض جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ 7,500 ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کا مجموعی بیرونی قرض 2.5 ارب ڈالر ہے، جبکہ فی افغان شہری پر اوسطاً 60 ڈالر کا قرض بنتا ہے، جو خطے میں سب سے کم فی کس قرض ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی قرض کی مجموعی رقم کے ساتھ ساتھ فی شہری قرض، معیشت کے حجم، آبادی، قومی آمدنی اور قرض کی ادائیگی کی صلاحیت جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ صرف قرض کی مجموعی مالیت کسی ملک کی معاشی صورتحال کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔