ثناء میر ویمن ٹیم کے دفاع میں سامنے آگئیں، صنفی بنیاد پر تنقید کرنیوالوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کھلاڑیوں پر تنقید ضرور کریں لیکن وہ اصلاح کے لیے ہو، تذلیل کے لیے نہیں


ویب ڈیسک June 29, 2026

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر نے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے ٹیم کے باہر ہونے کے بعد خواتین کرکٹرز پر ہونے والی صنفی بنیاد پر تنقید پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو میں ثناء میر نے کہا کہ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ قومی ویمن ٹیم توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی، تاہم اس بنیاد پر خواتین کرکٹرز کی تضحیک اور نامناسب زبان کا استعمال کسی صورت درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ باور کرانے میں کئی سال لگے کہ لڑکیاں بھی بین الاقوامی سطح پر بڑے مقابلے جیتنے اور حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ویمن ٹیم نے ماضی میں اہم میچز اور سیریز جیت کر اپنی صلاحیتوں کا ثبوت بھی دیا ہے۔

ثناء میر کا کہنا تھا کہ وہ انفراسٹرکچر، ڈومیسٹک کرکٹ اور کنٹریکٹس جیسے مسائل پر پہلے بھی آواز اٹھاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی اٹھاتی رہیں گی لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری معاشرے کی سوچ کو بدلنا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مردوں کی کرکٹ ٹیم کبھی ورلڈ کپ نہیں ہاری یا اس کی کارکردگی کبھی خراب نہیں رہی؟ پھر خواتین کرکٹرز کو ہی صنفی بنیاد پر کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟

سابق کپتان نے کہا کہ خواتین کرکٹرز کے بارے میں توہین آمیز تبصرے، مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی جھوٹی ویڈیوز اور تضحیک آمیز مہمات ان کے اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کھلاڑیوں پر تنقید ضرور کریں لیکن وہ اصلاح کے لیے ہو، تذلیل کے لیے نہیں۔