زمین سے کھرچے گئے تاریخ میں محفوظ قصبے

اسرائیل غالباً واحد ریاست ہے جس نے اپنی بین الاقوامی سرحدیں متعین نہیں کیں تاکہ جب موقع ملے آس پاس کے علاقے ہڑپنے میں آسانی ہو۔


وسعت اللہ خان June 30, 2026

اسرائیل غالباً واحد ریاست ہے جس نے اپنی بین الاقوامی سرحدیں متعین نہیں کیں تاکہ جب موقع ملے آس پاس کے علاقے ہڑپنے میں آسانی ہو۔ حالانکہ اقوامِ متحدہ نے دسمبر انیس سو سینتالیس میں متحدہ فلسطین کا چھپن فیصد حصہ دس فیصد یہودی اقلیت کو اور چوالیس فیصد رقبہ نوے فیصد فلسطینی اکثریت کو الاٹ کیا۔مگر چودہ مئی انیس سو اڑتالیس کو اسرائیل نے اپنی باضابطہ پیدائش کے بعد اگلے پانچ ماہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو گھروں سے دھکیل کر زیرِ تسلط علاقے کو چھپن سے اٹھتر فیصد تک پہنچا دیا۔جو بائیس فیصد زمین فلسطینیوں کے پاس بچی (غزہ اور مغربی کنارہ ) اس پر بھی انیس برس بعد (جون انیس سو سڑسٹھ ) قبضہ کر لیا گیا۔

آج اس بچے کھچے بائیس فیصد کو اگر سو فیصد تصور کر لیا جائے تو اس سو کا بھی محض اٹھارہ فیصد فلسطینیوں کے قبضے میں رہ گیا ہے اور وہ بھی مسلح یہودی آبادکار اور فوج مل کے فلسطینیوں سے چھین رہے ہیں۔( مجموعی طور پر اس وقت غزہ کا چھپن فیصد اور مغربی کنارے کا ساٹھ فیصد رقبہ اسرائیل کے براہِ راست فوجی قبضے میں ہے )۔

اسرائیل صرف علاقے ہی نہیں نگلتا بلکہ ان علاقوں کی تاریخ اور جغرافیائی شناخت پر بھی بلڈوزر چلاتا ہے۔بیسیوں قدیم دیہاتوں اور قصبوں کا وجود مٹ چکا ہے اور سیکڑوں قدیم عرب نام عبرانی ناموں سے بدل دیے گئے ہیں تاکہ اسکولی بچوں کو بس اتنا یاد کروایا جا سکے کہ یہودیوں کی آمد سے پہلے یہ خطہ خالی تھا اور اس بیابان کو دراصل ہمارے یہودی اجداد نے آباد کیا۔

ہزاروں برس کے سفر میں تین الہامی مذاہب کا روحانی مرکز القدس کئی ہاتھوں سے نکل کے کئی ہاتھوں میں گیا۔اس سفر کے دوران یہ شہر اروشالم ، یروشالئم ، ایلیا کیپیتولینا ، بیت المقدس اور القدس کے نام سے جانا گیا۔آج القدس کی شاہراہوں پر تین زبانوں میں شہر کا نام لکھا جاتا ہے ( انگریزی ، عبرانی ، عربی)۔ مگر عربی رسم الخط میں القدس یا بیت المقدس کے بجائے یروشلم ہی لکھا گیا ہے۔پرانی تختیوں میں جہاں جہاں بریکٹ میں القدس لکھا ہے اکثر جگہ اس پر بھی کلر اسپرے کر دیا گیا۔جب کہ کوچہ و بازار کی نئی بلدیاتی تختیوں پر تینوں زبانوں میں صرف یروشلم لکھا ملے گا۔

اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش کے عرب نام بیت لحم اور عبرانی نام بیت لیخم میں بظاہر زیادہ فرق نہیں مگر بیت لحم کا مطلب گوشت کا گھر اور بیت لیخم کا مطلب روٹی کا گھر ہے۔تاہم سرکاری دستاویزات میں نہ صرف اس شہر کا عبرانی نام استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کا رقبہ بھی یہودی آبادکار بستیوں کے تعمیری گھیرے میں خاصا محدود کر کے اسے ایک مسیحی روحانی مرکز سے زیادہ سیاحتی مرکز کی شناخت دینے کی کوشش ہے۔

بیت لحم سے بیس کیلومیٹر جنوب میں الخلیل (ابراہیم خلیل اللہ)کا قدیم شہر ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مزار اور تاریخی مسجدِ ابراہیم ہے مگر اسرائیلی ریکارڈ میں یہ شہر ہیبرون کہلاتا ہے۔ اگرچہ یہ مقبوضہ مغربی کنارے کا گنجان ترین شہر ہے جہاں دو لاکھ سے زائد فلسطینی بستے ہیں۔مگر بیس فیصد شہر اسرائیلی فوج کے مستقل قبضے میں اور تقسیم شدہ ہے۔دیوار کے دوسری جانب قدیم گھروں سے فلسطینیوں کو نکال کر آٹھ سو کے لگ بھگ یہودی خاندان بسائے گئے ہیں۔

جب کہ ایک ہفتہ قبل اسرائیلی حکومت نے مسجدِ ابراہیم کا انتظام بھی مقامی بلدیہ سے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔یہ وہی مسجد ہے جہاں انیس سو چورانوے میں ایک امریکن اسرائیلی یہودی باروش گولڈشٹائین نے خود کار بندوق سے چوبیس نمازیوں کو شہید اور سو سے زائد کو زخمی کر دیا۔دائیں بازو کے اکثر اسرائیلی سیاست دانوں کے لاؤنج میں باروش کی تصویر لگی ہوئی ہے۔

الخلیل یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔مگر خاردار تاروں اور مسلسل فوجی نقل و حرکت کے سبب اس شہر کی تاریخ پر رفتہ رفتہ قبضہ ہو رہا ہے۔

الخلیل کے مشرق میں دس ہزار برس سے مسلسل آباد شہر جیریکو ہے۔یہ نہ صرف دنیا کی قدیم ترین آبادی ہے بلکہ سطحِ سمندر سے ریکارڈ آٹھ سو بیس فٹ نیچے ہے۔اس کا عرب نام اریحا ہے۔یہ نام قدیم عبرانی نام ریہا سے نکلا ہے۔اس کا مطلب ہے چاند یا خوشبو۔اگرچہ اریحا بظاہر فلسطینی اتھارٹی کی حدود میں ہے مگر عملاً یہ چاروں طرف سے وادیِ اردن میں اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ علاقے سے گھرا ہوا ہے۔

جولائی انیس سو اڑتالیس میں لائیدا اور راملے کے جڑواں قصبوں سے مجموعی طور پر ستر ہزار فلسطینیوں کو جبراً نکالا گیا اور سیکڑوں کو مار ڈالا گیا۔ آج اس زمین پر اسرائیل کا سب سے بڑا بن گوریان ایرپورٹ بنا ہوا ہے اور یہ علاقہ اب لائیدا کے بجائے عبرانی نام لوڈ سے جانا جاتا ہے۔

بحیرہ روم کے خوبصورت ساحل پر یافا نام کا قدیم شہر بھی تھا۔یافا کا مطلب ہی ’’ خوبصورت ‘‘ ہے۔ یہاں کے سنگترے چہار جانب مشہور تھے۔یہاں کے کیفے بے فکر دانش کا مرکز تھے۔یافا کے قریب ہی انیس سو نو میں تل ابیب کے نام سے یہودی بستی قائم ہوئی۔اگلے ایک سو پندرہ برس میں یافا بتدریج مسلسل پھیلتے تل ابیب میں کہیں گم ہو گیا۔

اسدود کے ساحلی قصبے کی تمام پانچ ہزار آبادی کو اکتوبر انیس سو اڑتالیس میں جبراً نکال دیا گیا۔ان میں سے بیشتر نے غزہ میں پناہ لی۔انیس سو چھپن میں اسدود کا نام اشدود کر دیا گیا اور آج دو لاکھ تیس ہزار آبادی والا اشدود اسرائیل کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔اسدود سے پندرہ کیلومیٹر پرے عشقلان کا ساحلی قصبہ ہے۔اس کا عرب نام المجدال اب کہیں سننے کو نہیں ملتا۔یہاں کی بارہ ہزار فلسطینی آبادی کو نومبر انیس سو اڑتالیس میں دس کیلومیٹر پرے غزہ میں دھکیل دیا گیا۔

بحیرہ روم کے ساحل پر ہی شمالی اسرائیل میں ایکر کا تین ہزار برس پرانا تجارتی شہر ہے۔صلیبی دور میں لگ بھگ ایک صدی تک یورپی عیسائی جنگجوؤں کا قلعہ بند مرکز رہا۔ایکر عربی میں عکہ اور عبرانی میں اکو کہلاتا ہے۔انیس سو اڑتالیس میں یہاں کی فلسطینی آبادی کو بھی علاقہ چھوڑنا پڑا۔

تل ابیب سے ذرا فاصلے پر بن گوریان ایرپورٹ کے نزدیک ہی زیتون کی پیداوار کے لیے مشہور بیت نبالا گاؤں بھی ان پانچ سو تیس قدیم دیہاتوں میں شامل ہے جن کا وجود ختم کر دیا گیا۔حتی کہ ان کے نام سرکاری ریکارڈ میں بھی نہیں ملتے تاکہ فلسطینی آگے چل کے ملکیت کا دعوی نہ کر سکیں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)