ریاض: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث خلیجی ممالک کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں آج کاروبار کا آغاز محتاط انداز میں ہوا جبکہ سرمایہ کار دوحہ میں متوقع سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چار ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد ہونے والی عارضی جنگ بندی کے مستقبل پر خدشات کے باعث سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کی بینچ مارک اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ تیل کمپنی سعودی آرامکو کے حصص میں تقریباً 0.5 فیصد کی کمی رہی۔
ادھر عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے بھی تقریباً ایک فیصد گر کر 72.40 ڈالر فی بیرل تک آ گئے۔ یہ قیمت گزشتہ ماہ کی اختتامی سطح کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر، یعنی 22 فیصد کم ہے۔
دبئی کی مرکزی اسٹاک مارکیٹ میں بھی 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ معروف بینک ایمریٹس این بی ڈی کے حصص میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ابوظہبی اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس بھی 0.2 فیصد نیچے رہا۔
دوسری جانب قطر کی اسٹاک مارکیٹ میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جہاں انڈیکس میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے میں قطر گیس ٹرانسپورٹ کے حصص کا اہم کردار رہا، جن کی قیمت تقریباً 1.5 فیصد بڑھ گئی۔
رپورٹس کے مطابق اس ہفتے دوحہ میں ایرانی اور امریکی نمائندوں کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کسی باضابطہ ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار آئندہ چند دنوں میں امریکا اور ایران کے تعلقات، جنگ بندی کی صورتحال اور تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر خصوصی نظر رکھیں گے، کیونکہ ان عوامل کا خلیجی معیشت اور اسٹاک مارکیٹوں کی سمت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔