ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر فوری اور بھرپور جواب دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے معاہدے کو نظرانداز کیا تو ایران سبق سکھائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت انتہائی واضح ہے اور سب کے لیے جاری کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے تل ابیب میں اپنے پالتوؤں کو لگام دینے کا وعدہ کیا، اگر وہ اپنے مالک کو نظر انداز کرتے ہیں تو ایران ان کو سبق سکھائے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ہمارے عوام اور قیادت کو کوئی خطرہ ہوا تو فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
https://x.com/araghchi/status/2072269774701137933?s=20
قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے تل ابیب میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ امریکی سفارتی کوششوں کے باوجود اگر ضروری ہوا تو اسرائیل ایران کو دوبارہ نشانہ بنا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران پر دو دفعہ احتیاطی طور پر حملے کر چکے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو تیسری دفعہ بھی حملہ کریں گے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں قتل کرنے کے لیے نشانے پر رکھا گیا تھا۔
مذاکرات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایرانی اچھے سودے بازی ہیں اور مذاکرات میں رعایتیں لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا، اگر انہوں نے ایسا کیا تو پھر انہیں سب کچھ معاہدے کے تحت کرنا ہوگا۔