کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے۔ شہر قائد کا امن اور بدامنی سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ دہشت گردوں نے اب کراچی کے امن کو تباہ کرنے کی سازشیں شروع کر دی ہیں جو اپنے آقاؤں بھارت اور افغانستان کی طالبان رجیم کی معاونت، رہنمائی، تربیت، مالی امداد اور اسلحہ کی فراوانی سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں سرکاری عمارتوں، سکیورٹی اہلکاروں اور اسکولوں بازاروں کو نشانہ بنا کر عام شہریوں، پولیس اور فوج و رینجرز کے جاں باز سپاہیوں اور افسروں کو اپنا ٹارگٹ بنا رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے کراچی کے معروف علاقے گلستان جوہر میں افغانستان کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے رینجرز کے کیمپ آفس پر حملہ دہشت گردی کے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ رینجرز کے بہادروں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنایا۔ گرفتار دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور اس کی سیاسی وابستگی جماعت الاحرار سے ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کے ہلاک ہونے والے تینوں ساتھیوں نے ٹریننگ افغانستان سے حاصل کی اسلحہ اور خودکش جیکٹ بھی وہیں سے لی اور 7 دن قبل جلال آباد سے باجوڑ کے علاقے میں رہائش پذیر عبدالہادی کے گھر آئے تھے۔
گرفتار دہشت گرد کا اعترافی بیان اس امر کا عکاس ہے کہ افغانستان کی سرزمین آج بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ وہاں سے ٹریننگ، اسلحہ اور سہولت کاری کے ذریعے دہشت گرد پاکستان کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور خودکش حملے کر رہے ہیں۔
دفتر خارجہ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے باقاعدہ احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ افغانستان کی جانب سے ڈرون بھی بھیجے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں آنے والے افغان ڈرون کو موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا گیا۔ ترجمان نے واضح کر دیا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے اس طرح کے مذموم ہتھکنڈے درحقیقت افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرستی ترک کرے۔
پاکستان کی حکومت نے اعلیٰ ترین سطح پر افغانستان طالبان رجیم کو ایک سے زائد مرتبہ یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ طالبان رجیم نے پاکستان کی ’’وراننگ‘‘ کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہ لیا اور آج تک افغانستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں کی تربیت کے لیے قائم ٹریننگ کیمپوں کے خلاف کوئی موثر جوابی اقدام نہیں اٹھایا۔ نتیجتاً پاکستان نے اپنی قومی سلامتی و دفاع کو محفوظ بنانے کے لیے افغانستان میں فروری 26 میں آپریشن شروع کیا اور پکتیا، قندھار اور ننگرہار میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپوں کو نشانہ بنا کر انھیں تباہ کر دیا۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ افغانستان سے در اندازی کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
پاکستان میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی لیکن ہنوز یہ ممکن نہ ہو سکا۔ دہشت گرد عناصر بلوچستان اور کے پی کے سے آگے بڑھ کر ملک کے سب سے اہم تجارتی مرکز کراچی کو نشانہ بنانے کے تانے بانے بن رہے ہیں۔کراچی میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں دہشت گردوں کے سہولت کارمل جاتے ہیں، ادھر بھارت بھی اپنے ہرکاروں کے ذریعے سازشوں میں مصروف ہے۔ طالبان رجیم کی سہولت کاری سے بھارت مئی 25 کی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینے کے لیے اپنا مذموم کھیل کھیل رہا ہے۔
بھارتی جاسوس بھی بھیس بدل کر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعترافی بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ بھارت آج بھی پاکستان کے خلاف مختلف حوالوں سے گیم پلٹنے سازش کر رہا ہے۔ مئی 25 میں اس نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا اور اب اس نے پاکستان کے مغربی دریاؤں پر 3,120 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور نیٹ ورک بنا لیا ہے اور مزید 7,250 میگاواٹ منصوبوں کی تیاری کر رہا ہے جو پاکستان کے پانی پر قبضے اور غذائی تحفظ کو نقصان پہنچانے کی سنگین سازش ہے۔ پاکستان نے اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر بھارت سے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ہمارے پانی پر ہاتھ ڈالنے والے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے گا۔
بھارت اور افغانستان کی ملی بھگت سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاک افغان سرحد پر داخلی نظام کو فول پروف بنایا جائے۔ اندرون وطن سہولت کاری کے نیٹ ورک کو توڑا جائے اور داخلی انٹیلی جنس سرگرمیوں کا دائرہ مزید موثر اور وسیع کیا جائے۔ بھارت افغان طالبان گٹھ جوڑ کا خاتمہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے اندرونی سیکیورٹی، دفاعی اور انٹیلی جنس نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔