دوحہ: قطر میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے اختتام کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ قطری حکام نے مذاکرات کو "مثبت پیش رفت" قرار دیا، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی اور تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 73 سینٹ یا 1.02 فیصد کمی کے بعد 70.84 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 1.21 فیصد کمی کے بعد 67.75 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تجارتی سیشن میں بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد گر گئی تھیں، جو گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، عالمی جہاز رانی کی سلامتی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی جیسے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے جنگ سے قبل عالمی سطح پر خام تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی گزرتی تھی۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کشیدگی یا استحکام کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کا سلسلہ جاری رہا اور آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق ممکنہ فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں عالمی توانائی کی مارکیٹ کا رخ متعین کریں گے۔