سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے غیر ملکی قرض لینے کے طریقہ کار اور غیر ملکی امداد سے سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی نے سندھ کے متعلقہ صوبائی سیکریٹریز کو اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
دورانِ اجلاس ایک سیکشن آفیسر کی جانب سے لکھے گئے خط پر شدید بحث ہوئی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر واقعی یہ معاملہ کمیٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تو پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے، ورنہ اجلاس جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خط اجلاس میں پڑھ کر سنایا جائے تاکہ عوام بھی صورتحال سے آگاہ ہوں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سیکشن آفیسر اور وزارت قانون کے نمائندے کو طلب کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سیکریٹری اقتصادی امور سے پوچھا کہ آیا وہ خط کے مندرجات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔
سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ یہ خط ابہام پیدا کرنے اور پارلیمنٹ سے نفرت کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ سینیٹ کا بنیادی کام ہی ریاستی اداروں کی نگرانی کرنا ہے۔
سیکریٹری اقتصادی امور حمیر کریم نے مؤقف اختیار کیا کہ خط میں پارلیمنٹ یا سینیٹ کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط ان کی وزارت کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور وہ اس کے مندرجات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وزارت قانون سے صرف اقتصادی امور ڈویژن کے لیے طریقہ کار سے متعلق رائے طلب کی گئی تھی۔
سیکریٹری اقتصادی امور نے بتایا کہ کمیٹی نے پاور ڈویژن کے ایک معاملے کو ایف آئی اے کے سپرد کرنے کے لیے اقتصادی امور ڈویژن کو خط لکھنے کی ہدایت کی تھی، تاہم رولز آف بزنس کے تحت ایک وزارت دوسری وزارت کے خلاف براہ راست ایسا خط نہیں لکھ سکتی، اس لیے وزارت قانون سے قانونی رائے لی گئی۔
سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ اقتصادی امور ڈویژن کے رولز آف بزنس صرف اندرونی معاملات کے لیے ہیں اور سینیٹ کی ہدایات پر عملدرآمد کے لیے وزارت قانون سے رائے لینے کی ضرورت نہیں تھی۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے استفسار کیا کہ وزارت قانون کی رائے کے بعد کیا نیب اور ایف آئی اے کو خط لکھا گیا، جس پر سیکریٹری اقتصادی امور نے بتایا کہ وزارت قانون نے سفارش کی تھی کہ معاملہ متعلقہ وزارت کو بھیجا جائے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کمیٹی کو براہ راست نیب اور ایف آئی اے کو تحقیقات کے لیے لکھنے کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی تحقیقات کی بنیاد پر وزیراعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے متعدد اعلیٰ افسران اور ارکان کو معطل کیا تھا، اس لیے اس معاملے میں بھی مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے الزام عائد کیا کہ 2022 میں پاور ڈویژن کے منصوبوں میں کرپشن کی نشاندہی کے باوجود تحقیقات نہیں ہوئیں اور وزیر قانون نے اس معاملے میں پردہ پوشی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقتصادی امور ڈویژن تعاون نہیں کرے گا تو کمیٹی نیب اور ایف آئی اے کو بھیجے جانے والے خط میں اس عدم تعاون کا بھی ذکر کرے گی۔
سیکریٹری اقتصادی امور نے کہا کہ حکومت کرپشن کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے اور اگر کمیٹی مناسب سمجھے تو وہ اپنے اختیار کے تحت غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے براہ راست نیب اور ایف آئی اے کو خط لکھ سکتی ہے۔