امریکا اور ایران کے درمیان دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات امید، اضطراب اور اندیشے کے درمیان معلق ایک ایسی حقیقت بن چکے ہیں جس پر نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
یہ محض دو ریاستوں کے درمیان اختلافات کم کرنے کی ایک کوشش نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ایک ایسے عقدے کو کھولنے کی سعی ہے جو دہائیوں سے الجھا ہوا ہے۔ اس خطے کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ ہمیشہ بہت کم رہا ہے۔ ایک معمولی غلط اندازہ پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے، جب کہ ایک دانشمندانہ سفارتی قدم نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ دوحہ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اسی نوع کی ایک نازک مگر غیرمعمولی اہمیت کی حامل کوشش ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح پر ہونے والی بات چیت اور تہران کے منجمد اثاثوں میں سے ابتدائی طور پر تین ارب ڈالر جاری کرنے کا اصولی معاہدہ بظاہر محدود نوعیت کا قدم ہے، مگر اس کی معنوی حیثیت کہیں زیادہ گہری ہے۔ سفارت کاری میں اعتماد کبھی اچانک پیدا نہیں ہوتا؛ یہ چھوٹے مگر اہم اقدامات کے ذریعے تعمیر ہوتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بداعتمادی، اقتصادی پابندیوں، خفیہ کارروائیوں اور عسکری دھمکیوں نے ایسے گہرے شگاف پیدا کیے ہیں جنھیں پر کرنا آسان نہیں۔
ایسے میں دوحہ مذاکرات کا آغاز ہی اپنے اندر ایک مثبت اشارہ رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ حالیہ ملاقاتیں اچھی رہیں اور ایرانی ایٹمی پروگرام کے خاتمے کا عمل مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، ایک اہم سفارتی اشارہ ہے، تاہم امریکی سیاست کے تناظر میں ایسے بیانات کو محض لفظی خوش فہمی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ امریکا کی ایران پالیسی ہمیشہ داخلی سیاسی دباؤ، اسرائیلی اثرورسوخ، کانگریس کی حساسیت اور عالمی طاقتوں کے مفادات سے جڑی رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے آنے والا ہر مثبت بیان امید ضرور پیدا کرتا ہے مگر یقین نہیں۔ دوسری طرف ایران کی قیادت بھی محتاط لچک کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ صدر پزشکیان کا یہ بیان کہ سپریم لیڈر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے منع نہیں کیا، دراصل ایران کے داخلی اقتدار کے توازن کا آئینہ دار ہے۔ ایران میں صدر اور وزارتِ خارجہ کی سفارتی گنجائش ہمیشہ اعلیٰ مذہبی قیادت کی منظوری سے مشروط ہوتی ہے۔ اس لیے یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ تہران فی الحال تصادم کے بجائے محدود مفاہمت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ایران نے اپنی سرخ لکیریں بھی واضح کر دی ہیں۔ میزائل پروگرام، ڈرون صلاحیت اور دفاعی خودمختاری کو ایران اپنی قومی سلامتی کا بنیادی ستون سمجھتا ہے اور ان پر مذاکرات سے صاف انکار اسی سوچ کی توسیع ہے۔یہی اصل تنازع ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ اس کی عسکری طاقت کو بھی محدود کرنا چاہتے ہیں، جب کہ ایران اپنے دفاعی ڈھانچے کو ناقابلِ گفت و شنید قرار دیتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو ہر ممکن معاہدے کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
ماضی میں بھی کئی بار مذاکرات اس مقام پر آکر تعطل کا شکار ہوئے کہ ایران اپنے دفاعی اثاثوں پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھا اور مغرب انھیں علاقائی عدم استحکام کا سبب قرار دیتا رہا۔ ادھر اسرائیل کی جانب سے مسلسل جارحانہ بیانات نے اس سفارتی ماحول کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی یہ دھمکی کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران پر تیسری بار حملہ کیا جائے گا، محض ایک بیان نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے وجودی خطرے کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔
تل ابیب کی حکمت عملی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ ایران کو کسی بھی سطح پر جوہری صلاحیت حاصل نہ ہونے دی جائے، خواہ اس کے لیے یکطرفہ عسکری کارروائی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا جواب بھی اسی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی قیادت یا عوام کو خطرہ ہوا تو فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا، دراصل اسرائیل کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ اس خطے میں زبان بھی ہتھیار ہوتی ہے۔ یہاں الفاظ، دھمکیاں، عسکری تیاری اور سفارتی اشارے سب ایک ساتھ چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بیان کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس صورتحال کا سب سے فوری اور نمایاں اثر عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑا ہے۔ دوحہ مذاکرات کے مثبت اشاروں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی اس حقیقت کا واضح اظہار ہے کہ عالمی سرمایہ کار سفارتی استحکام کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ برینٹ خام تیل اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی منڈی اس پیش رفت کو ایک مثبت امکان کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کی تیل برآمدات بحال ہو سکتی ہیں بلکہ عالمی منڈی میں سپلائی بڑھنے سے قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز اس پوری صورتحال کا مرکز ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی رسد اسی سمندری گزرگاہ سے گزرتی ہے، اگر یہاں معمولی خلل بھی پیدا ہو تو اس کا اثر دنیا بھر میں محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوحہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور جہاز رانی کی بحالی پر گفتگو کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔
پاکستان کا کردار اس پورے منظرنامے میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو ایران، خلیجی ممالک اور امریکا تینوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے۔ یہی متوازن سفارتی حیثیت اسے ایک قابل قبول ثالث بناتی ہے۔ دوحہ میں ایران، قطر اور پاکستان کا سہ فریقی اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد کو محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ کردار صرف سفارتی وقار کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی مفاد کا تقاضا بھی ہے۔خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں پاکستان براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے معاشی مفادات، سرحدی سلامتی کے خدشات اور تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، یہ سب عوامل پاکستان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں محض رسمی نہیں بلکہ قومی بقا اور معاشی استحکام سے جڑی ہوئی ہیں۔ مستقبل کا منظرنامہ کئی امکانات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اگر امریکا پابندیوں میں نرمی دکھاتا ہے اور ایران جوہری نگرانی میں شفافیت بڑھاتا ہے تو ایک نئے معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسرائیل کی عسکری مداخلت یا کسی فریق کی اشتعال انگیزی نے اس عمل کو متاثر کیا تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی طاقتوں کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے۔یہ بھی قابل غور ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی محض اقتصادی ریلیف نہیں بلکہ داخلی استحکام کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ایران گزشتہ برسوں میں مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی اضطراب کا سامنا کرتا رہا ہے، اگر معیشت کو کچھ سہارا ملتا ہے تو داخلی سطح پر حکومت کی پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے اور یہی استحکام مذاکراتی عمل کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ ہمیشہ جلد شروع ہوتی ہے مگر اس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ عراق، شام، لیبیا اور یمن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، اگر ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ سفارتی عمل ناکام ہوا تو اس کے اثرات صرف ان دونوں ریاستوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کی نئی لہر کا شکار ہو سکتا ہے۔آج کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ تمام فریق طاقت کے مظاہرے کے بجائے سیاسی حکمت اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کریں۔ دھمکی اور دباؤ وقتی نتائج تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر دیرپا امن صرف مکالمے سے ممکن ہے۔ امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی ہمیشہ کارگر نہیں ہوتی، ایران کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عالمی اعتماد کے بغیر اقتصادی بحالی ممکن نہیں، جب کہ اسرائیل کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ مسلسل عسکری دھمکیاں سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔
دوحہ مذاکرات کی اصل اہمیت یہی ہے کہ انھوں نے جنگ کو ناگزیر سمجھنے کے تصور کو وقتی طور پر چیلنج کیا ہے، اگرچہ راستہ دشوار اور پیچیدہ ہے، مگر مکالمے کا جاری رہنا بذاتِ خود ایک مثبت علامت ہے۔ آج مشرق وسطیٰ کو بندوق کے دھوئیں سے زیادہ مذاکرات کی میز کی ضرورت ہے۔ تاریخ ہمیشہ انھی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو جنگ کے دہانے پر کھڑے ہو کر بھی امن کے راستے کا انتخاب کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے سامنے آج یہی تاریخی امتحان ہے اور اس امتحان کا نتیجہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی مستقبل کا رخ متعین کرے گا۔