اِس مرتبہ بھی بفضلِ باری تعالیٰ عشرہ محرم الحرام کے دوران اِسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام مسالک سے وابستہ مسلمانانِ وطن نے لائقِ تحسین اتحاد و یگانگت اور پورے نظم و ضبط کا عملی مظاہرہ کیا، جہاں ملک بھر کی امام بارگاہوں میں علماء کرام اور ذاکرین نے امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں اور اْن کے اعلیٰ و ارفع کردار کے مختلف پہلوؤں سے عزادارانِ حسینؓ کو آگاہ کیا وہاں شامِ غریباں کی مجالس بھی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئیں۔
اہلِ تشیع اور سنی مسالک سے وابستہ لاکھوں لوگوں نے جگہ جگہ مشروبات کی سبیلیں اور نذر و نیاز سے آراستہ ضیافتیں عزادارانِ حسینؓ کی خدمت میں پیش کیں، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے فول پروف حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کی حساس امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ اِسی طرح اہلسنت والجماعت، دیوبندی، بریلوی مسالک سے وابستہ لوگوں نے بھی عشرہ محرم عقیدت و احترام سے منایا۔ نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کی سیرت، اْن کے ارشادات اور کربلا میں اْن کی دینِ مبینِ اسلام کی بقاء اور سربلندی کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے شہدائے کربلا کے جذبہ اور فلسفہ شہادت کو اْجاگر کیا، علماء کرام نے کہا کہ امام عالی مقام کا صبر و استقلال، جذبہ ایثار و قربانی، استقامت اور اللہ کی خوشنودی اور رضا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنا ملتِ اسلامیہ ہی کے لیے نہیں پوری اِنسانیت کے لیے درسِ عظیم ہے۔
ادبی حلقوں کی طرف سے شہرِ اقتدار اسلام آباد سمیت پورے ملک کے ہر شہر میں مسالمہ کی روح پرور مجالس منعقد ہوئیں جن میں شعراء کرام نے اپنا منظوم نذرانہ عقیدت بحضورِ شہدائے کربلا نذرِ حاضرین و سامعین کیا۔ اِس مرتبہ کافی حد تک یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں ایک ہی تسبیح کے دانے ایک ہی مالا کے گوہرِ نایاب۔ نواسہ رسول ﷺ کسی ایک فرقے یا مسلک کے نہیں پوری اِنسانیت کے رہبر و مولا ہیں ۔ اِسی لیے تو جوش ملیح آبادی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ
حکومت کی بہترین حکمتِ عملی اور ذاتی دلچسپی سے ملک بھر میں امن و امان برقرار رہا، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے قیامِ امن اور عشرہ محرم الحرام کو انتہائی خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہونے تک اپنی گراں قدر اور مثالی خدمات انجام دیں۔ محبت، اخلاص، ہمدردی اور بین المسالک ہم آہنگی کا عملاً مظاہرہ دیکھنے کو ملا، تمام شہروں اور قصبوں کے علماء کرام، مشائخِ عظام، ذاکرینِ محترم، معززینِ علاقہ، تاجر برادری، سماجی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں نے اہلِ علاقہ کو پْر امن رہنے، خلوص و رواداری اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات و احساسات کا خاص خیال رکھنے کا درس دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ملک کے ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ ملک و اسلام دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھے تاکہ دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی مذموم سازشوں اور ناپاک کارروائیوں کو بروقت کچلا جا سکے۔
اس ضمن میں ہماری نڈر، دلیراور فولاد صفت مسلح افواج نے بھی ہر وقت خود کو چوکس اور کسی بھی افتاد سے ٹکرانے اور دشمنوں کو پاش پاش کرنے کا عزم زندہ و پائندہ رکھا۔ زندہ قوموں کا یہی دستور یہی شعار اور یہی نصب العین ہوا کرتا ہے کہ وہ ملک و قوم کی بقاء اور سلامتی کے لیے ہر بلا سے بے خوف و خطر ٹکرانے کا حوصلہ اور صلاحیت رکھتی ہیں، اگر ہم تاریخِ اسلام کا بغور مطالعہ کریں تو آزادی کے لیے لڑی جانے والی تمام جنگوں میں مسلمانوں کا اتحاد دیدنی رہا، سب فقط ایک متحد اور منظم مومن مسلمان تھے، جب ہی تو اس ناقابلِ تسخیر اتحاد کے سامنے وقت کی بڑی بڑی طاقتیں ڈھیر ہوگئیں۔ تحریکِ آزادیِ پاکستان میں بھی مسلمانانِ برصغیر نے متحد و منظم ہوکر آزادی کی جنگ لڑی اسی وجہ سے فتح و نصرت سے ہمکنار ہوئے۔ وہ ایک وقت تھا جب پاکستان بنانے کی فکر تھی اور آج ایک ایسا وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستان بچانے کی فکر لاحق ہے کیونکہ طاغوتی طاقتوں، بالخصوص یہود و نصاریٰ اور گندی ذہنیت رکھنے والے ہندو ہمارے اتحاد کو توڑنے کے درپے ہیں لیکن اْنہیں نہیں معلوم کہ یہ قوم، قومِ رسولِ ہاشمی ہے جن دلوں میں اہلِ بیت اور خانوادہ رسول کا احترام ہے اْن دلوں میں خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی بھی عقیدت موجود ہے۔
حضرت حسنین ؓ جنت کے سردار ہیں اور جن کے لیے پاک اور بابرکت لبِ رسول سے یہ بات نکلی ہو کہ’’اے باری تعالیٰ میں اپنی آل سے پیار کرتا ہوں، تو بھی ان سے پیار فرما اور جو شخص ان سے پیار کرتا ہے تو اْن سے بھی پیار فرما‘‘ کیا اعلیٰ و ارفع مقام ہے امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کا اور اْن کے پورے خانوادہ کا جنھوں نے میدانِ کربلا میں عظیم قربانیاں دے کر دین مبین اسلام کی سربلندی اور بقاء کے لیے جانوں تک کا نذرانہ پیشں کرنے کی تلقین وتاکید فرمائی اور اللہ کی راہ میں اِس عظیم قربانی کا فلسفہ رہتی دنیا تک کے انسانوں کو بتا گئے۔ ہم اس موقع پر ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک سیاسی و سماجی شخصیت سردار الحاج عبدالحلیم خان قصوریہ جو شہر حسیں ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی امن کمیٹی کے روح رواں ہیں کے بھی شکر گزار ہیں جو گزشتہ چالیس سالوں سے ڈیرہ اسماعیل خان میں قیامِ امن اور اتحاد بین المسلمین کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
اِس مرتبہ بھی عشرہ محرم کے دورانِ انھوں نے تمام مکاتبِ فکر سے وابستہ لوگوں اور معززین علاقہ سے مل کر پْر امن فضا برقرار و بحال رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہاں تھلہ بھورا شاہ کے ذاکر و عالم ملک و جاہت علی عمرانی جوکہ علامہ ملک محسن علی عمرانی کے فرزند ارجمند ہیں اور اْن کے دیگر رفقاء نے بھی ڈیرہ میں پْر امن فضا برقرار رکھنے میں اپنا مثالی کردار ادا کیا ہے۔ پشاور میں سابق وفاقی وزیر مواصلات ارباب عالمگیر خان خلیل اور اْن کے فرزند ارباب زرک خان نے بھی اہل علاقہ سے متحد و منظم رہنے اور ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی اپیل کی۔ گورنر خیبرپختونخواہ سردار فیصل کریم خان کنڈی، ڈیرہ سے رکن قومی اسمبلی سردار فتح اللہ خان میانخیل اور رکن صوبائی اسمبلی سردار احسان اللہ خان میانخیل نے بھی اِس سلسلہ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، ہم اِس اتحادِ اسلامیہ کو زندہ باد کہتے ہوئے دْعاگو ہیں کہ اللہ کریم وطنِ پاک کو سلامت تا قیامت رکھے اور ہم سب مکاتبِ فکر کے مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو کر رہیں۔آج کا کالم بھی میں جناب ملک محسن علی عمرانی مرحوم و مغفور کے ان عقیدت مندانہ اشعار پر تمام کرنا چاہوں گا کہ محشر میں جو با دیدہء نم جاوں گا محسن حسنین ع کی الفت کا صلہ پاوں گا محسن خالی نہیں جائے گی میری اشک روانی! کربل کے مسافر کی ہے پردرد کہانی۔