شہید و عظیم علی خامنہ ای کا عظیم الشان سفرِ آخرت

28فروری2026ء کو امریکی و اسرائیلی حملے میں آئیت اللہ خامنہ ای شہید کر دیئے گئے تھے ۔


[email protected]

4جولائی کو امریکہ میں یومِ آزادی منایا جاتا ہے اور4جولائی2026ء ہی سے ایران کے عظیم رہنما ، شہید آئیت اللہ علی خامنہ ای، کی تجہیز و تدفین اور آخری مذہبی رسومات کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ جرأتمند اور جنگ سے سرخرو ہونے والی ایرانی قیادت نے شہید خامنہ ای مرحوم کی آخری و تدفینی سوگوار رسومات کا4جولائی سے آغاز کرکے جارح امریکہ کو دراصل یہ پیغام دیا ہے کہ ایرانی قوم اور قیادت نے اپنے سپریم لیڈر ، آئیت اللہ علی خامنہ ای، کی عظیم المرتبت جان کا نذرانہ پیش کرکے ایرانی آزادی کا پرچم بھی بلند کیے رکھا اور دُنیا پر اپنی حریت پسندی کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا ہے ۔

اطلاعات کے مطابق: شہید ایرانی رہنما کی تدفین کے لیے چار جولائی سے شروع ہونے والی جملہ سرکاری سوگوار تقریبات 6 دن تک (4جولائی تا 9جولائی) جاری رہیں گی ۔ آئیت اللہ خامنہ ای صاحب مرحوم جتنے بڑے ، عوام کے نزدیک ہر دلعزیز اور مطلق و عظیم الشان رہنما تھے ، اُن کے شایانِ شان ہی اُن کی تدفین ہو رہی ہے ۔ اندازے اور قیافے لگائے گئے ہیں کہ اِن رسومات میں ، چھ دن تک، دو کروڑ سے زائد ایرانی شرکت کرکے اپنے محبوب و شہید رہنما کو الوداع کہیں گے ۔ لاریب یہ تدفین اپنی نوعیت کی منفرد ترین نمازِ جنازہ ہوگی ۔

کئی عالمی رہنما بھی شہید آئیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کررہے ہیں ۔اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان ، جناب شہباز شریف ، بھی شہید خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے ۔ پاکستانی سول و عسکری قیادت نے جس تسلسل ، اخلاص اور تگ و دَو سے ایران پر مسلّط کی گئی امریکی و اسرائیلی جنگ کو ، بالآخر، امن اور مفاہمت کی یادداشت میں ڈھالا ، اِس نے ایرانی عوام اور ایرانی قیادت کے قلوب میں پاکستان، پاکستانی قیادت اور پاکستانی عوام کے لیے احترام و اکرام کی جگہ بنائی ہے ۔ اِس لحاظ سے تو جناب شہباز شریف کی خامنہ ای شہید کی نمازِ جنازہ میں خاص الخاص شرکت بنتی ہے ۔ خبر ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد شہباز شریف ترکیہ بھی جائیں گے ۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور ایم این اے ، جناب بلاول بھٹو زرداری، بھی وزیر اعظم پاکستان کے ہمراہ سابق ایرانی سپریم لیڈر، شہید خامنہ ای، کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوں گے۔ صدرِ مملکت ، جناب آصف علی زرداری ، کے صاحبزادے ہونے کے ناتے بلاول بھٹو زرداری کی یہ شرکت خاصی اہم تصور کی جائے گی ۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی یہ شرکت اِس عمل کا اظہار بھی ہوگی کہ پاکستان ، خوشی اور غم میں، برادر ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔جناب شہباز شریف نے (23جون2026ء کو) ایرانی صدر ، محترم مسعود پزشکیان، کی اسلام آباد آمد کے موقع پر ، سینے پر ہاتھ رکھ کر، بجا ہی کہا تھا:’’ جنابِ مسعود پز شکیان صاحب،ایران کی خوشی ہماری خوشی اور ایران کا غم ہمارا غم ہے ۔‘‘

سابق ایرانی سپریم لیڈر ، شہید آئیت اللہ خامنہ ای، کی تدفین اور آخری مذہبی رسومات تہران ، قم اور مشہد میں ادا کی جائیں گی ۔ ایرانی عوام اشکبار اور آنسو بھری آنکھوں سے اِن تینوں شہروں میں اپنے دلیر ، دلبر اور دلاور لیڈر کو آخری سفر پر روانہ کریں گے ۔ دوست اور دشمن سب مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ ایرانی انقلاب کے مرکزی رہنما اور منقلب ایران کے بانی ، آئیت اللہ رُوح اللہ خمینی مرحوم ، کے جانشین ، جناب خامنہ ای، نے واقعی معنوں میں حقِ جانشینی ادا کر دیا ۔

اُنہوں نے جان تو دے دی مگر امریکی طاغوت اور اسرائیلی تعصب و جبر کے سامنے سر نہ جھکایا۔ جس طرح انقلابِ ایران کا واقعہ تاریخِ عالم میں حیرت انگیز الفاظ سے لکھا گیاہے، اِسی طرح آئیت اللہ خامنہ ای صاحب شہید کی جری موت کا واقعہ بھی زرّیں الفاظ ہی میں لکھا جاتا رہے گا۔اُن کی شہادت کے ذمے دار جارح و حملہ آور مسیحی امریکہ اور صہیونی اسرائیل ہیں ۔ شہید خامنہ ای اور اُن کے خاندان کے کئی افراد کے خون نے مگر ایران کے خلاف خونریز جارحیت کے مرتکبین کو شکست اور پسپائی سے دو چار کیا ہے ۔ بِلا شبہ یہ ایک غیر معمولی تاریخ ساز واقعہ ہے ۔

وقتِ شہادت آئیت اللہ علی خامنہ ای کی عمر 86برس تھی ۔بطورِ سپریم لیڈر بہت سے ایرانیوں نے اُن کے اقدامات ، فیصلوں اور پالیسیوں سے اختلاف کیا ۔ ایران میں اُٹھنے والی بہت سے جلوس اور احتجاجی تحریکیں اِس کی غماز ہیں۔ مثال کے طور پر2022ء میں ایک مزاحم ایرانی خاتون ( مہسا امینی) کا تہران کے تھانے میں مبینہ طور پر بوجہ تشدد قتل ! لیکن ایرانی قیادت کو اکثریتی ایرانیوں کی محبت اور محبوبیت حاصل رہی ۔ آئیت اللہ علی خامنہ ای کی عظیم الشان شہادت نے ایرانیوں کو بھرپور اور بے مثال اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پرو دیا۔

اِس منظر نے جارح مسیحی امریکہ اور صہیونی اسرائیل کو حیرت میں مبتلا کر دیا کہ یہ دونوں طاغوتی قوتیں تو کچھ اور ہی توقعات لگائے بیٹھی تھیں ۔ سلام ہے ایرانی قوم کو جس نے حملہ آور امریکی و صہیونی توقعات کو خاک میں ملا دیا ۔ اور اب 6ایام تک ایرانی قوم اپنے شہید لیڈر کو الوداع کہہ رہے ہیں تو یہ بھی درحقیقت ایرانی قوم کی جانب سے امریکیوں اور صہیونیوں کو مہذب انداز میں دندان شکن جواب ہے ۔

28فروری2026ء کو امریکی و اسرائیلی حملے میں آئیت اللہ خامنہ ای شہید کر دیئے گئے تھے ۔ گویا اب تدفین اور آخری مذہبی سوگوار رسومات کے وقت اُنہیں شہید ہُوئے چار ماہ اور ایک ہفتہ ہورہا ہے ۔ ایرانی حکومت نے بڑے احترام و اکرام اور احتیاط کے ساتھ اُن کی میت کو سنبھال کررکھا ہے ۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے کسی بھی انسانی میت کو عرصئہ دراز تک سلامت رکھنا ممکن بنا دیا ہے ۔ آج سے102سال قبل سوویت یونین انقلاب کے بانی و مرکزی رہنما، ولادیمیر لینن،(53سال کی عمر میں)انتقال کر گئے تھے ۔ سوویت قیادت نے فیصلہ کیا کہ لینن کی نعش کو حنوط کرکے محفوظ رکھا جائے ؛ چنانچہ لینن کی میت آج بھی ماسکو کے، مقبرئہ لینن ، میں سب کے سامنے موجود ہے ۔ عوام اُن کی حنوط شدہ نعش کو دیکھ سکتے ہیں ۔

اِسی طرح جدید، کمونسٹ اور انقلابی جدید چین کے بانی رہنما، ماؤزے تنگ، آج سے50سال قبل(82سال کی عمر میں) فوت ہُوئے تو انقلابی چینی قیادت نے اُن کی وصیت کے برعکس اُن کی نعش کو حنوط کرکے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا؛ چنانچہ ماؤزے تنگ کی میت آج بھی چین کے دارالحکومت، بیجنگ ، کے مشہور ٹیانمن اسکوائر( چیئرمین ماؤزے میموریل ہال) میں ایک کرسٹل تابوت میں رکھی ملتی ہے ۔ کچھ عرصہ قبل جب ہمیں سابق وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ چین جانے کا اتفاق ہُوا تو چند صحافیوں کے ساتھ ہم نے بھی آنجہانی ماؤزے تنگ کی ، پُر شکوہ اور وسیع و عریض ٹیانمن اسکوائر میں، حنوط شدہ میت دیکھی ۔ اُس روز سیکڑوں چینی بھی چیئرمین ماؤزے تنگ کا ’’دیدار‘‘ کرنے آئے تھے ۔ ماؤزے تنگ کے مقبرے میں داخل ہونے کے لیے( غیر ملکیوں کے لیے) اچھا خاصا مہنگا ٹکٹ لگایا گیا ہے ۔

کل 4جولائی، بتاریخ17محرم الحرام ، بروز جمعۃ المبارک،سے شہید آئیت اللہ خامنہ ای کی سوگوار مذہبی تقریباتِ تدفین کا آغاز ہو جائے گا۔ مبینہ شیڈول کے مطابق: چار تا پانچ جولائی، سب سے پہلے، تہران میں امام خمینی مصلیٰ میں الوداعی تقریب کا انعقاد ہوگا۔ چھ جولائی کو تہران ہی میں مرکزی جنازے کا جلوس نکالا جائے گا۔ سات جولائی کوقُم میں جنازے کا جلوس نکالنے کا پروگرام ہے ۔اور9جولائی2026ء کو مشہد میں ، جہاں حضرت امام رضاؒکا روضہ مبارک بھی ہے، آخری الوداعی تقریب اور تدفین ہوگی ۔

مشہد ہی جناب آئیت اللہ علی خامنہ ای شہید کی جائے پیدائش ہے ۔ گویا جس عظیم مٹی سے اُن کا خمیر اُٹھا تھا، وہی مٹی اُن کی آخری آرام گاہ بن جائے گی ۔ جس مٹی میں حضرت امام رضا ؒایسی عظیم المرتبت ہستی کا مرقد مبارک ہو ، اُس مٹی کی چادر اوڑھ لینا تو ویسے بھی بے مثال سعادت ہے ۔ راقم کو بھی امام رضا ؒ کے عظیم الشان روضے کی زیارت کا شرف حاصل ہو چکا ہے ۔ اور راقم نے امام صاحب ؒ کے روضہ مبارک کے وسیع اور دلکشا صحن میں تین نمازیں ادا کرنے کی سعادت بھی حاصل کررکھی ہے ۔ الحمد للہ !