الفاظ کے ہیر پھیر کے بجٹ

وزیر اعظم سے ملاقات میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تحفظات سے انھیں آگاہ کیا جو حکومت نے دور کرنے ہی کرنے ہیں۔


[email protected]

وفاق اور صوبوں نے اپنے اپنے سالانہ بجٹ پیش کر دیے اور ماضی کی طرح اس بار بھی حکومتوں نے بجٹ کو عوام دوست اور ہر جگہ کی اپوزیشن نے نئے بجٹ کو بھی عوام دشمن، الفاظ کا ہیر پھیر اور ناسمجھ میں آنے والا گورکھ دھندا قرار دیا۔ ایوانوں میں بجٹ کی مخالفت اور حمایت میں دھواں دھار تقریریں ہوئیں، بجٹ دستاویز پھاڑی گئیں، ایک دوسرے پر شدید الزام تراشی معمول رہی اور یہ سب کچھ ہونے کے بعد ہونا وہی ہے جو ماضی سے ہوتا آیا ہے۔ ہر جگہ ہنگامہ آرائی اور آخر میں بائیکاٹ کے ڈراموں کے بعد بجٹ منظور کر لیے گئے۔ حکومتیں اپنے ہر بجٹ کو حرف آخر سمجھ کر کوشش کرتی آئی ہیں کہ انھیں اپوزیشن کی تجاویز نہ ماننی پڑیں اور ان کا پیش کردہ بجٹ من و عن منظور ہو جائے اور بجٹ ہمیشہ منظور ہی ہوتے آئے ہیں اور اب بھی حسب ماضی یہی ہونا ہے۔

وفاق میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اتحادی ہیں، پی پی کے بقول حکومت ہاتھ دکھا گئی اور پیپلز پارٹی کو جو بجٹ دکھایا گیا تھا وہ کچھ بجٹ میں ہے ہی نہیں ،اس لیے پی پی کے رہنما حالیہ بجٹ پر بھی تنقید میں اس طرح پیش پیش رہے جیسے وہ حکومت کے اتحادی نہیں اپوزیشن ہوں۔ بجٹ مخالفین کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنی اپنی بجٹ تجاویز منظور کرانا ہوتا ہے۔ حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی اکثریت کے باعث بجٹ منظور کرا سکتی ہے مگر منصوبے کے تحت حکومت نے پی پی کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور ایم کیو ایم پر پیپلز پارٹی ہی کو ترجیح دینی ہے۔ ایم کیو ایم کے فاروق ستار، لاکھ کہتے رہیں کہ سندھ کے گورنر سے متعلق ہمیں مطمئن کیا جائے تو بجٹ پر ووٹ دیں گے۔ ایم کیو ایم کے بقول وزیر اعظم نے یقین دلایا تھا کہ آرٹیکل A-140 کا مسئلہ نئے بجٹ کے موقع پر حل کیا جائے گا، اس لیے ہمیں واضح جواب چاہیے حکومت نے آرٹیکل A-140 کے سلسلے میں ایم کیو ایم کو نہیں پیپلز پارٹی ہی کو ترجیح دینی ہے ،اسی لیے پیپلز پارٹی کی قیادت نے پہلے ہی پالیسی طے کر لی تھی کہ حکومت کو کس طرح تنگ کرنا اور خوشامدیں کرانی ہیں ،اس لیے پہلے پیپلز پارٹی نے بجٹ پیشی کے موقع پر وزیروں کی دوڑیں لگوائیں اور (ن) لیگ کے وزیروں کو مایوس کرکے لوٹا دیا مگر جب غیر (ن) لیگی بااثر وزیر منانے آئے تو بلاول زرداری مان گئے اور اجلاس میں تو آگئے تھے مگر انھوں نے پہلے بجٹ پر اظہار خیال نہیں کیا تاکہ حکومت سے اپنی باتیں منوائی جا سکیں۔ بجٹ پیشی کے بعد چیئرمین بلاول زرداری اپنے وفد کے ہمراہ وزیر اعظم سے بھی آ کر ملے جس پر سب سے پہلے انھوں نے جی بی میں حکومت سازی پر وزیر اعظم کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ جی بی میں (ن) لیگ کی شکست کے بعد پی پی کو خوش رکھنے کے لیے مسلم لیگ ن کی قیادت پہلے ہی پی پی کی حمایت کا اعلان کر چکی تھی۔

وزیر اعظم سے ملاقات میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تحفظات سے انھیں آگاہ کیا جو حکومت نے دور کرنے ہی کرنے ہیں۔ پیپلز پارٹی مسلسل الزامات لگا رہی ہے کہ حکومت تین سالوں سے سکھر حیدرآباد موٹروے کو نظرانداز کر رہی ہے۔ پی پی مخالفین پی پی کے اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے کہ پیپلز پارٹی تو خود وفاقی حکومت کا اہم حصہ ہے اور اپنے دیگر مطالبات کی طرح سندھ میں موٹروے کی تعمیر کی اہم ضرورت کیوں نظرانداز کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی خود اگر موٹروے بنوانے میں سنجیدہ ہو تو وفاقی حکومت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ سکھر، حیدرآباد موٹروے کی جلد تعمیر کا مطالبہ نہ مانے مگر لگتا ہے کہ پی پی خود موٹروے کی جلد تعمیر نہیں چاہتی تاکہ حکومت پر الزام تراشی جاری رکھ سکے۔

آرٹیکل A-140 صرف ایم کیو ایم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات میں بااختیار مقامی حکومتوں کی ضرورت عوام کو ہے جس کی جماعت اسلامی عملی اور (ن) لیگ صرف دکھاوے کی حمایت کرتی ہے اور ایم کیو ایم کو صرف آسرے پر رکھتی آ رہی ہے ،آرٹیکل A-140 جو آئین میں شامل ہے مگر عمل نہیں ہو رہا کیونکہ پی پی کی طرح (ن) لیگ بھی ملک میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنا نہیں چاہتیں کیونکہ اس سے ارکان اسمبلی کی اہمیت اور مالی مفادات متاثر ہوتے ہیں جو خود اس کے مخالف ہیں۔پی ٹی آئی وزیر اعظم نے اپنی حکومت میں اعتراف کیا تھا کہ انھیں بجٹ منظوری کے لیے باہر کی قوتوں کی مدد حاصل کرنا پڑتی ہے۔ عوام ہر بجٹ پر پریشان ہوتے ہیں کہ بجٹ کے اصل حقائق کیا ہیں کیونکہ حکومت اور اپوزیشن ہر بار ڈرامے کرتی ہیں اور بجٹ منظوری کی سزا ہی ان کا مقدر ہوتی ہے اور عوام کو اب بھی پتا ہے کہ مہنگائی بڑھتی ہے اور انھیں بجٹوں میں کیا گیا ہیر پھیر پھر بھگتنا ہے۔